Posts

Showing posts from June, 2020

رات کے اندھیرے میں

رات کے اندھیرے میں افسانہ: خلیل جبران ترجمہ: احمد سعید قادری بدایونی رات کے اندھیرے میں ہم ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں، چیختے ہیں، مدد طلب کرتے ہیں لیکن کوئی فریاد رسی کو نہیں آتا اور موت کا سایہ ہمارے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے، اُس کے سیاہ پنکھ ہمارے سروں پر شامیانے کی صورت پھیلنے لگتے ہیں، اُس کا خوف ناک شکنجہ ہماری روح کی گہرائی تک پہنچ جاتا ہے اور اُس کی انگارے کی طرح بھڑکتی ہوئی آنکھیں دور سے ہمیں گھورنا شروع کردیتی ہیں۔ جب رات اپنے تاریک لشکر کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے تو آگے آگے موت چلتی ہے اور اُس کے پیچھے ڈرے سہمے، روتے بلکتے ہم چلتے جاتے ہیں، نا ہم میں سے کوئی رکنے کی ہمت رکھتا ہے اور نا ہی کوئی رکنا چاہتا ہے۔ ظلمت و یاس سے بھری رات میں، موت ایک قائد کی طرح نکلتی ہے اور ہم اُس کے پیچھے چلنے لگتے ہیں جب جب موت پیچھے پلٹ کر دیکھتی ہے تو سڑک کے دونوں کناروں پر ہزاروں افراد گر جاتے ہیں اور جو بھی گرتا ہے وہ ایسی نیند سوتا ہے کہ کبھی اٹھتا ہی نہیں اور جو نہیں گرتے اُن کے حوصلے یہ سوچ کر ہی ٹوٹنے لگتے ہیں کہ وہ بھی گریں گے اور سونے والوں کے ساتھ دائمی نیند سو جائیں گے لیکن ان سب باتوں کا م...