اہلِ دل کی بزم اور ایک دور کھڑا مسافر
ایک طرف مدینۃ الاولیاء بدایوں کی سرزمین پر قادری جام کی مستی میں مست و بیخود عاشقوں کا میلا ہے: جہاں نور کے چراغ دِیدار یار کے مشتاق دلوں کو وصال کی روشنی عطا کر رہے ہیں۔ فضا میں محبت کی ایک مدھم سی لرزش ہے، نعت و منقبت کی بازگشت ہے، اور ہر چہرہ اس بےخودی کا آئینہ ہے جو فقط نسبت والے جانتے ہیں۔ اور دوسری طرف ایک دل ہے جو اپنے سینے میں محرومیِ باریابی کی آگ چھپائے بیٹھا ہے۔ ایسی آگ جس کی لَپٹ ہر سانس کے ساتھ لمبی ہو جاتی ہے، جیسے کسی اندھیرے گلیارے میں رکھا چراغ مسلسل تیز ہوا سے لڑتا ہوا جلتا رہے۔ یہ آگ کبھی امید کی جھلک دکھاتی ہے، کبھی حسرت کی راکھ اڑا دیتی ہے، مگر بجھتی نہیں؛ بس دل کی تہوں میں ایک ناگہانی سی روشنی جگاتی رہتی ہے۔ وائے رے گردشِ زمانہ کی بے رحم چالیں! ہائے رے روزگار کے دھوکے اور دکھوں کی یلغار! گردش زمانہ کبھی کبھی ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کردیتی ہے جہاں سے محبوب کا راستہ صاف دکھائی دیتا ہے مگر قدم وہاں تک پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں۔ یہ وہ محرومیاں ہیں جن کے تذکرے زبان سے نہیں ہوتے، مگر دل کئی دن ان کے سوگ میں ڈوبا رہتا ہے۔ عرسِ قادری میں شریک نہ ہو پانا...