اہلِ دل کی بزم اور ایک دور کھڑا مسافر

ایک طرف مدینۃ الاولیاء بدایوں کی سرزمین پر قادری جام کی مستی میں مست و بیخود عاشقوں کا میلا ہے: جہاں نور کے چراغ دِیدار یار کے مشتاق دلوں کو وصال کی روشنی عطا کر رہے ہیں۔ فضا میں محبت کی ایک مدھم سی لرزش ہے، نعت و منقبت کی بازگشت ہے، اور ہر چہرہ اس بےخودی کا آئینہ ہے جو فقط نسبت والے جانتے ہیں۔


اور دوسری طرف ایک دل ہے جو اپنے سینے میں محرومیِ باریابی کی آگ چھپائے بیٹھا ہے۔ ایسی آگ جس کی لَپٹ ہر سانس کے ساتھ لمبی ہو جاتی ہے، جیسے کسی اندھیرے گلیارے میں رکھا چراغ مسلسل تیز ہوا سے لڑتا ہوا جلتا رہے۔ یہ آگ کبھی امید کی جھلک دکھاتی ہے، کبھی حسرت کی راکھ اڑا دیتی ہے، مگر بجھتی نہیں؛ بس دل کی تہوں میں ایک ناگہانی سی روشنی جگاتی رہتی ہے۔ 


وائے رے گردشِ زمانہ کی بے رحم چالیں!

ہائے رے روزگار کے دھوکے اور دکھوں کی یلغار!

گردش زمانہ کبھی کبھی ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کردیتی ہے جہاں سے محبوب کا راستہ صاف دکھائی دیتا ہے مگر قدم وہاں تک پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں۔ یہ وہ محرومیاں ہیں جن کے تذکرے زبان سے نہیں ہوتے، مگر دل کئی دن ان کے سوگ میں ڈوبا رہتا ہے۔ 


عرسِ قادری میں شریک  نہ ہو پانا فقط عدمِ حاضری نہیں، یہ دل کی اُس  دُھن کا ٹوٹ جانا ہے جو اندر ہی اندر پورے سال سُر بکھیرتی رہتی ہے۔ جیسے کوئی دف طاق پر رکھ دی جائے، مگر اس کی کھال میں دبی تھپتھپاہٹ اب بھی کسی ہاتھ کی تلاش میں ہو۔ یا جیسے دریا کی موجیں سطح پر ساکت ہوں، مگر تہہ میں کوئی سرکش رُباب اپنی بے قرار لَے کے ساتھ انہیں ساحل سے سر پٹکنے پر اُکساتا رہے۔ یہ وہ خاموش سُر ہے جو سنائی نہیں دیتا، مگر دل کو اپنے مرکز، اپنی اصل روشنی کی طرف کھینچتا رہتا ہے۔

عرسِ قادری کی محفلیں ساز کی محتاج نہیں ہوتیں۔ یہاں نعت و مناقب کی  جلترنگ دل کے اندر اتر کر سوز و گداز کے مضراب پر کیف و مستی کی اپنی الگ ہی دھن بناتی ہیں۔ یہاں ذکرِ الٰہی کی روشنی افق پر یوں پھیلتی ہے جیسے کوئی تھکے ہوئے سورج کو نیا دن تحفے میں دے دے۔

شیخ کی مجلس سے اٹھنے والی نصیحتیں انسان کے باطن سے گرد یوں جھاڑ دیتی ہیں جیسے پرانی کتاب پر پھیلی ہوئی دھول اچانک ہٹ جائے اور مدھم پڑے حرف پھر سے دمک اٹھیں۔


یہ وہ مقام ہے جہاں محبت اپنی خاموش سچائی کے ساتھ سانس لیتی ہے، نسبت اپنی لطیف روشنی کو دل کی رگوں میں اتارتی ہے، اور روحانی وراثت ایک خوشبو کی طرح فضا میں ٹھہری رہتی ہے جو بند آنکھوں کو بھی راستہ دکھانے کا ہنر رکھتی ہے۔


اسی لئے جب ایک وارفتۂ شوق دل وہاں نہ پہنچ سکے تو دل کی دنیا پر ایک نادیدہ خزاں اتر آتی ہے۔ کئی دنوں تک طبیعت یوں بھاری رہتی ہے جیسے روشنی کا ایک ٹکڑا اچانک آنکھوں کے سامنے سے ہٹ گیا ہو۔ باتوں کی آوازیں مدھم پڑ جاتی ہیں، چہروں کا رنگ اُڑا اُڑا سا رہتا ہے۔ زندگی اپنی رفتار پر چلتی رہتی ہے، مگر متوالے دل میں ایک چھوٹا سا خلا روز اپنا وجود یاد دلاتا ہے۔ یہ خلا وہی جان سکتا ہے جس نے ایک بار بھی شیخِ کامل کے دربار میں اپنے دل کو بے ساختہ دھڑکتے محسوس کیا ہو۔

اب دل پر جو خلش بیٹھی ہے، وہ لمحہ بہ لمحہ گہری ہوتی جاتی ہے۔ وقت آگے بڑھتا رہتا ہے، مگر اندر ایک ساعت ٹھہر سی گئی ہے۔ ہر گھڑی ایک دھیمی سی چبھن لیے آتی ہے، جیسے کسی نادیدہ زخم نے خاموشی سے اپنا ڈیرہ دل کے نہاں خانوں میں جما لیا ہو۔

دنیا اپنی دوڑ میں مصروف ہے، مگر طالبِ دید کی سانس کسی رکے ہوئے لمحے کی گرفت میں ہے جو فاصلہ کو صرف ایک لفظ نہیں رہنے دیتا بلکہ ایک کیفیت میں تبدیل کردیتا ہے۔

عرسِ قادری کی صبح جب دور افق کے دامن سے نمودار ہوتی ہے تو دل کے اندر ایک لرزش سی اٹھتی ہے۔ کہیں سے نعتوں کی نرم سرمگیں آواز سنائی دیتی ہے، مگر وہ آواز مشتاق دل تک پہنچ کر بھی کارگر نہیں ہوتی۔ شیخ کی محفل کا تصور روح میں ہلکی سی گرمی ضرور لاتا ہے، مگر اسی کے ساتھ ایک نم آہ دل کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتی ہے۔

یہ وہ گھڑی ہے جہاں دعا اپنے راستے تلاش کرتی رہ جاتی ہے،

جہاں سجدہ صرف تمنّا کی صورت بن کر رہ جاتا ہے،

اور آنسو باہر نہیں آتے بلکہ اندر ہی کسی خاموش کنویں میں ڈوب جاتے ہیں۔

عدمِ حاضری کا یہ دکھ کسی شور کی طرح نہیں آتا۔ یہ تو دھوپ میں سائے کی مانند آہستہ آہستہ پھیلتا جاتا ہے۔ اسیرِ رہِ الفت اسے جتنا بھلانے کی کوشش کرتا ہے، یہ اتنی ہی شدت سے دل میں پیوست ہوتا جاتا ہے۔ اور پھر ایک وقت آتا ہے جب شام کی اُترتی روشنی کے ساتھ دل پر ایک ایسا سکوت نازل ہوتا ہے جس کی ترجمانی لفظ بھی نہیں کر پاتے۔

یہ سکوت دعا کو لبوں تک لاتا ہے،

مگر وہ دعا سانس میں ہی پگھل جاتی ہے۔

یہ سکوت یاد دلاتا ہے کہ بعض جدائیاں جسم کی نہیں ہوتیں،

روح کی تہوں میں اتر کر گھر کر لیتی ہیں۔

اور انہی تہوں میں کہیں ایک منتظر دل کھڑا رہ جاتا ہے،

اپنے ہی دل کی ادھوری دھڑکن سنتا ہوا،

جیسے کوئی چراغ جلنے کے انتظار میں ماند پڑ گیا ہو۔



احمد سعید قادری 

۹ نومبر ۲۰۲۵

Comments

Popular posts from this blog

عتبات تضيء أكثر من الدروب

عربی محاورات مع ترجمہ و تعبیرات - ایک مطالعہ