Posts

Showing posts from April, 2020

قسطوار حاصل مطالعہ - عبقرية محمد ﷺ - قسط ٣

حاصلِ مطالعہ عبقرية محمدﷺ قسط ٣ ۱. مرسل الیہ کی زبان کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ شائستہ لب و لہجہ اور مؤثر اندازِ بیان کا مالک ہونا۔ ۲. لوگوں کا مُحِبّ و محبوب ہونا نیز عوام کے نزدیک بھروسے مند ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کو قریب کرنے کى صلاحیت سے لیس ہونا۔ ۳. پیغام پر خود داعی و پیغمبر کو مکمل و مستحکم یقین ہونا۔ مذکورہ تینوں باتیں کِسی بھی پیغام کو عام کرنے اور دعوت کو کامیاب بنانے کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں حالانکہ وہ تمام خوبیاں جن کا ایک پیغمبر میں ہونا تبلیغی اُمور کی ادائیگی کے لئے ضروری ہوتا ہے وہ سب محمد ﷺ کی ذات میں بدرجۂ اتم موجود تھیں پھر بھی: ۱. اگر مرسل الیہ کی زبان کا علم ہونا پیغام پہچانے کے لیے ضروری ہے تو محمد ﷺ کے جیسا فصیح و بلیغ عالَمِ عرب میں پیدا نہیں ہوا کیونکہ فصاحتِ کلام مجموعی طور پر ایک ایسی صفت ہے جو انسان کے کلام ، اندازِ بیان اور موزوں موضوع  پر حسبِ ضرورت گفتگو کرنے کو، کِسی نا کسی صورت میں شامل ہوتی ہے بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ متکلِّم کی بات تو بہت اچھی ہے لیکن اُس کا اندازِ بیان اُس اچھی بات سے بھی منفی اثر چھوڑ جاتا ہے، اسی طرح کبھی ا...

سرور النجاح و أثره على الثقة بالنفس ‏

سرور النجاح و أثره على الثقة بالنفس  من الحقائق النفسية أن كلا منا يعمل على شاكلته ويبذل كل ما في وسعه لحصول النجاح في جميع أعماله و أهدافه ويتخذ خطوات واستراتيجيات عديدة لتحقيقه. فربما تتحقق النتائج و ربما لم تتحقق حسب ما نتوقع و صارت كل جهودنا في تتبعه مفشولا مهزوما لا وقعة لها ولا أهمية في إطار هذا الفشل المؤدي إلى فقدان الثقة بالنفس. وبعكسه إذا ما فزنا و ردت إلينا جهودنا الشاقة في أحسن صورة، صورة النجاح و الفور التي تقرى بها أعيننا وتسلي صدورنا تسلية لا يشوبها أي تعب و حزن فتزيد ثقة أنفسنا وننسى كل ما حال علينا في سبيله من التعب والإعياء والضجر والهم. فالنجاح أحد عوامل الاضافة والإزدياد للثقة بالنفس وهذا شيء إيجابي وطبيعي ولكن الفشل والإحباط والتخييب والهزيمة كل واحد من هذه المشاعر والأحاسيس والأحوال والظروف أجدر وأسمى عبرة و خطة للمرء في إطار تصميم الخطوات الجديدة و الإستراتيجيات المختلفة للحصول على الطرق المتعددة لنيل المقصود والوصول إلى الغاية فلا تقلق ولا تجزع بالفشل ولا تترك هزيمتك تسيدك إلى الهبوط والإنحدار بل دعها تقودك إلى الشرف والعلاء بالجهد المستمر مع يقين أن "كل جه...

قسطوار حاصلِ مطالعہ عبقرية محمد ﷺ - قسط ٢

قسط ٢ یہ کائنات اپنے محسن کے انتظار میں ہلکان ہوئے جا رہی ہے۔ ریگزار کا ہر ذرہ چاندنی رات کے آخری پہر کی ٹھنڈى ہوا کا منتظر ہے۔ یہ نخلستانِ عرب ظلم کے بدلے انصاف، قطعِ رحم کے بدلے صلۂ رحم کا متلاشی ہے۔۔ یہ کعبے میں رکھے بت اب "جاء الحق وزهق الباطل" کا مَدُھر نغمہ سن کر ہمیشہ کے لئے گرنا چاہتے ہیں۔۔ ارے دیکھو تو ذرا یہ کون ہیں ؟ اِن کے خصائل و کمالات میں تو کوئی شریک نظر نہیں آتا۔ نسب ایسا کہ پیشانی کی چمک کے سامنے خورشید کی چمک ماند پڑ جائے۔ قدرے ضرورت مال کے مالک جس سے امیروں کی تمکنت و سختی اور سرکشی سے دوری رہے۔ سر پر دستارِ یتیمی ہے لیکن دل لطف و عاطفت کا خزینہ ہے۔ عرب کی دیہاتی اور شہری دونوں زندگی کی نزاکتوں سے واقف ہیں۔ بکریوں کو بھی اپنی اُلفت و محبت سے مالامال کر چکے ہیں۔ تجارت کی ہے، جنگوں اور معاہدوں میں شریک ہوئے ہیں، سرداروں کے قریب بھی رہے لیکن غریبوں سے کبھی دور نہیں ہوئے غرض کہ اہل عرب کی پوری زندگی کا خلاصہ ایک ذات میں سما گیا ہے۔ دنیا سے تعلق تو ہے مگر اتنا گہرا نہیں کہ اسکی چکا چوند کے دائرے میں قید ہو کر رہ جائیں اور نا اتنی...

قسطوار حاصلِ مطالعہ عبقرية محمدﷺ ‏- ‏قسط ‏۱

قسط ۱ وہ صبحِ ربیع کی سحر کا اجالا کائنات انسانی ہر طرح کے نظام سے محروم تاریکیوں کی زنجیروں میں جکڑی اپنی بے بسی کا رونا رو رہی تھی نہ اس کے جگر میں اتنا دم تھا کہ وہ کِسی نا انصافی کو روک سکے اور نا ہی بازوؤں میں اتنی طاقت جس سے كسى مظلوم کی فریاد رسی کر سکے۔ اس کے پاس نہ حق کا ساتھ دینے کی تاب تھی اور نا ہی ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ۔ وہ اُس بے بس اور ہے یار و مددگار مفلوج انسان کی طرح محوِ تماشہ تھی جو ظلم و جبر، بے رحمی و بربیت کا ننگا ناچ دیکھنے کے باوجود بھی سوائے آنکھیں بند کرنے کُچھ نہیں کر سکتا۔۔ یہ بازنطین‌(قسطنطنيہ) (آج کا استنبول) اپنے دین کی سرحدوں کو پار کر‌کے قتل و غارتگری اور خانہ جنگی کی طرف نکل چکا تھا۔ فارس کے مجوسی خود اپنی مجوسیت کا مذاق اُڑھانے میں لگے تھے اور تختِ حکومت پر فریب کاروں، چال بازوں اور ہوس پرستوں کا قبضہ تھا۔ حبشہ کبھی ثقافت، کبھی بربریت اور کبھی خود ساختہ توحید کے نام پر خود کے بنائے خداؤں کے ہاتھوں بربادی و ہلاکت کے راستے پر محو سفر تھا۔ اس چپقلش ‌نے اس کو نہ دنیا میں کوئی پیغام عام کرنے لائق چھوڑا تھ...

قسطوار حاصلِ مطالعہ عبقرية محمدﷺ

قسطوار_حاصلِ_مطالعہ_عبقرية_محمدﷺ تمہید و تعارف کتاب "عبقریة محمد ﷺ" یوں تو سیرت النبی ﷺ ایک وسیع موضوع ہے اور تقریباً ہر زبان کے مصنفین نے اس میدان میں طبع آزمائی کی اور ہزاروں کتب سیرت النبی کے موضوع پر دنیا کو فراہم کیں۔ عربی زبان میں بھی بےشمار کتابیں سیرت النبى کے عنوان پر معرض وجود میں آئیں جن میں سے چند مشہور قدیم و حدیث کتابیں درج ذیل ہیں، ١.السيرة النبوية -  لأبي محمد عبد الملك بن هشام بن أيوب الحميري - المعروف "بسيرة ابن هشام" ٢. الشفاء بتعريف حقوق المصطفى ﷺ - للقاضى عياض ٣.كتاب زاد المعاد في هدي خير العباد - لابن قيم الجوزية  ۴.كتاب نبي الرحمة - لمحمد مسعد ياقوت ۵.كتاب نور اليقين في سيرة سيد المرسلين - لمحمد بن عفيفي الباجوري، المعروف بالشيخ الخضري ۶.سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد - لمحمد بن يوسف الصالحي الشامي ۷.كتاب الروض الأنف في شرح السيرة النبوية لابن هشام - لأبي قاسم السهيلي ۸.كتاب محمد صلى الله عليه وسلم كأنك تراه -  للشيخ عائض القرني ۹.اللؤلؤ المكنون في سيرة النبي المأمون - لموسى ابن راشد العازمي ہر کتاب کے ...