قسطوار حاصل مطالعہ - عبقرية محمد ﷺ - قسط ٣
حاصلِ مطالعہ عبقرية محمدﷺ
قسط ٣
۱. مرسل الیہ کی زبان کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ شائستہ لب و لہجہ اور مؤثر اندازِ بیان کا مالک ہونا۔
۲. لوگوں کا مُحِبّ و محبوب ہونا نیز عوام کے نزدیک بھروسے مند ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کو قریب کرنے کى صلاحیت سے لیس ہونا۔
۳. پیغام پر خود داعی و پیغمبر کو مکمل و مستحکم یقین ہونا۔
مذکورہ تینوں باتیں کِسی بھی پیغام کو عام کرنے اور دعوت کو کامیاب بنانے کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں حالانکہ وہ تمام خوبیاں جن کا ایک پیغمبر میں ہونا تبلیغی اُمور کی ادائیگی کے لئے ضروری ہوتا ہے وہ سب محمد ﷺ کی ذات میں بدرجۂ اتم موجود تھیں پھر بھی:
۱. اگر مرسل الیہ کی زبان کا علم ہونا پیغام پہچانے کے لیے ضروری ہے تو محمد ﷺ کے جیسا فصیح و بلیغ عالَمِ عرب میں پیدا نہیں ہوا کیونکہ فصاحتِ کلام مجموعی طور پر ایک ایسی صفت ہے جو انسان کے کلام ، اندازِ بیان اور موزوں موضوع پر حسبِ ضرورت گفتگو کرنے کو، کِسی نا کسی صورت میں شامل ہوتی ہے بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ متکلِّم کی بات تو بہت اچھی ہے لیکن اُس کا اندازِ بیان اُس اچھی بات سے بھی منفی اثر چھوڑ جاتا ہے، اسی طرح کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات اور اندازِ بیان دونوں بہت اچھے ہیں مگر اصل بات کی بنیاد پر جو مقدمات قائم کئے جا رہیں ہیں یا جو تفصیل و وضاحت کی جارہی ہے وہ سابقہ موضوع کے دائرے سے باہر ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اس گفتگو کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے لیکن جب آپ ان تمام چیزوں کو محمد ﷺ کی ذات میں تلاش کریں تو آپ کی ذات عربی زبان دانی کے معاملے میں جملہ اہل عرب پر فوقیت رکھتی ہے۔ آپ اپنی فصاحت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں، میرا تعلق قبیلہ قریش سے ہے اور میری رضاعت قبیلہ بنی سعد بن ابو بکر میں ہوئى ہے.(۱) جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ میں شہری اور دیہاتی دونوں عربی بولیوں پر مہارت رکھتا ہوں ۔
ہاں اس بات سے تو خیر انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایک شخص قبیلۂ قریش سے ہو اور اس کا بچپن بنی سعد ميں گزرا ہو اس کے باوجود بھی وہ ان دونوں قبیلوں کی خوبیوں سے نا بلد رہ جائے اور شہری اور دیہاتی عربی سلیقے کے اسرار و رموز اُس پر نہ کھل سکیں یا پھر اُسے سلیقے سے تو واقفیت مل گئی ہو البتّہ اُس کی آواز میں وہ چاشنی نہ ہو جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔ یہ ساری باتیں ممکن ہیں اور شاید کہیں نہ کہیں وقوع پذیر بھی ہوئیں ہوں البتہ محمد ﷺ کا اندازِ بیان بھی آپ کی حروف کی ادائیگی کی طرح بے عیب اور ہر خامی سے منزہ تھا جس کی تصدیق کرتے ہوئے حضرتِ عائشہ رضى الله تعالى عنہا فرماتی ہیں، "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گفتگو کرنے کا انداز تم لوگوں کی طرح تیز نہیں تھا بلکہ آپ ایسی صاف اور واضح گفتگو فرماتے تھے کہ آپ کی باتیں آپ کے پاس بیٹھنے والوں کےسینے پر نقش ہوجاتی تھیں".(۲)
اب بچی اس ضمن کی آخری بات اور وہ یہ کہ ٹھیک ہے مان لیا ایک شخص عرب میں پیدا ہوا قریش سے اُس کا تعلق تھا اور بنی سعد میں اُس کی پرورش ہوئی اور اِس کے ساتھ ساتھ گفتگو کے آداب سے بھی اُس کو واقفیت تھی لیکن کیا یہ بات ممکن نہیں ہے کہ یہ تمام خوبیاں ہونے کے بعد بھی وہ شخص جس چیز کی بابت اُس سے دریافت کیا جا رہا ہے، اُس کے تعلق سے وہ کوئی تشفی بخش جواب نہ دے سکے؟ یا کوئی ایسا جواب دے جو سوال سے زیادہ پیچیدہ ہو اس صورت میں ان تمام خوبیوں کے ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ لیکن مذکورہ نقطۂ نظر کو ذہن میں رکھ کر جب ہم ہمارے پاس موجود تمام شواہد و ثقہ راویوں کی روایات کی روشنی میں محمد ﷺ کی ذات اقدس کو دیکھتے ہیں تو آپ کی ذات اِس معاملے میں بھی سب سے نمایاں نظر آتی ہے، کُتب حدیث کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات بالکل واضح طور پر کہی اور سمجھی جا سکتی ہے کہ آپ ﷺ نے جس موضوع پر بھی گفتگو فرمائی اُس کے تمام متعلقہ پہلووں کو اس طرح واضح اور روشن کردیا جس طرح سورج تاریک رات کے بعد اپنی روشنی سے اس کائنات کو روشن کردیتا ہے اور آپ کی گفتگو کا یہ پہلو آپ کے "جوامع الکلم" ہونے کا ثبوت ہے۔
۲. محمد ﷺ لوگوں کو کتنے محبوب تھے اور وہ خود لوگوں سے کتنی محبت کرتے تھے خاص طور سے کمزور و نا تواں طبقہ آپ کو کتنا محبوب تھا اس بات کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ زید بن حارثہ جیسا ایک غلام بچّہ جو اپنے باپ اور کنبے سے بچھڑ جاتا ہے اور جب ایک عرصے بعد اُس کے والد اور اہلِ خاندان ملتے ہیں تو وہ بچّہ باپ کے ساتھ جانے کے بجائے محمد ﷺ کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتا ہے اسی طرح محمد ﷺ کا حضرتِ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو تجارت میں ہوئے نفع کی خبر دینے کے لئے اُن کے غلام میسرہ کو خود پر ترجیح دینا بھی آپ کے کمزور طبقے سے محبت و حُسنِ سلوک کی بہترین نظیر ہے. اسی طرح طاقتور اور سرمایہ دار افراد کو وہ کتنے محبوب تھے اِس کو سمجھنے کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ ابو بکر، عمر، عثمان، خالد اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہم یہ سب مزاجاً ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود بھی محمد ﷺ سے محبت کرنے کے معاملے متحد نظر آتے ہیں۔
#متن_حدیث_و_حوالہ
۱. "أنا قرشي واستُرضعت في بني سعد بن بكر". اس حدیث کو ابنِ اسحاق نے قدرے مختلف الفاظ میں حسبِ ذیل نقل کیا ہے،
"وكان رسول الله ﷺ يقول لأصحابه: "أنا أعربكم، أنا قرشي، واسترضعت في بني سعد بن بكر".
۲. "ما كان رسول الله ﷺ يسرد كسردكم هذا، ولكنه كان يتكلم بكلام بيِّن فَصْلٍ، يحفظه من جلس إليه." - اس حدیث کو امام ابو داؤد نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ، امام ترمذی، امام نسائی نے سنن کبرى میں اور امام احمد نے مسند میں کُچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
جاری۔۔
Comments
Post a Comment