Posts

Showing posts from May, 2020

قسطوار حاصلِ مطالعہ عبقرية محمد ﷺ - قسط ٦

حاصلِ مطالعہ عبقرية محمدﷺ احمد سعید قادری بدایونی قسط ٦ اگر نبی کریم ﷺ کی دعوت اِس لئے کامیاب ہوئی کیونکہ آپ ﷺ نے لوگوں کو اُخروی نعمتوں کے نام پر شراب اور حوروں کا لالچ دیا تھا جس کا سن کر لوگ اِن نعمتوں کے حصول کی خاطر آپ کی بات ماننے پر مجبور ہوگئے تو پھر ہمیں اسلامی تاریخ میں کہیں بھی سردارانِ مکہ اور اہلِ زر افراد اُن لوگوں کی فہرست میں نظر کیوں نہیں آتے جن کو اوّلین مسلمان ہونے کا شرف حاصل ہے؟ اگر دعوتِ محمدیہ کی کامیابی کا راز حور و قصور کی لچّھے دار باتوں پر منحصر تھا تو پھر یہ سارے دنیاوی نعمتوں کی لذت سے بہراور اور عیش و عشرت کے پرستار لوگ کیوں پہلے ہی دِن سے محمد ﷺ اور آپ کی دعوت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے؟ معترضین کے حساب سے ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ جیسے ہی محمد ﷺ  اُخروی نعمتوں کا تذکرہ کرتے، سارے مکّے والے نہ صرف آپ کی بات کی تصدیق کرتے بلکہ آپ کے سب سے بڑے حامی و ناصر بن جاتے کیونکہ زوالِ نعمت کا خوف اور حصولِ نعمت کی لالچ اُس انسان کو زیادہ رہتی ہے جس کے پاس کوئی نعمت پہلے سے ہو، وہ انسان جس کو کبھی کوئی نعمت ملی ہی نہ ہو اُس کو نا نعمت ملنے کی لالچ ہوتی ہے اور نا اُ...

خودکشی سے پہلے

خودکشی سے پہلے خلیل جبران ترجمہ: احمد سعید قادری بدایونی اِس انوکھے پر سکون کمرے میں کل میری محبوبہ بیٹھی تھی۔ یہ گلاب کی طرح نرم و نازک مسندیں وہی ہیں جن کے حصّے میں کل اُس کے خوبصورت سر کو چھونے کا شرف آیا تھا اور یہ شراب سے بھرا کانچ کا گلاس، اُس کے حسین و معطر ہونٹوں سے کیا لگا کہ ساری شراب اِس کے ہی سر چڑھ گئی تھی۔ یہ سب کل کی باتیں ہیں، وہ کل جو ایک حسین خواب کی طرح بیت گیا اور اب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا جبکہ آج میری دلرُبا مجھ سے بہت دور ایک ایسی ويران ٹھنڈی جگہ چلی گئی ہے جس کو حسرت و یاس کا شہر کہتے ہیں۔ میری معشوقہ کے انگلیوں کے نشان ہنوز میرے آئینے پر موجود ہیں، ابھی تک اُس کی سانسوں کی خوشبو میرے کپڑوں میں بسی ہے، اُس کی میٹھی آواز ابھی بھی میرے گھر کے در و دیوار میں گونج رہی ہے۔ ہائے رے ستم! یہ سب موجود ہے لیکن میری جان ایک ایسے مکان میں سکونت پذیر ہو چکی ہے جس کو ہجر و فراق کی بستی کہتے ہیں۔ اُس کی انگلیوں کے نشان، یادوں کی خوشبو، روح  کی تازگی کل صبح تک اسی کمرے میں مقیم رہے گی اور جب صبح میں کمرے کی کھڑکی کھولوں گا تو ہوا کے جھونکے اِس کمرے کی دہلیز پر قدم رکھیں گے ...

چپقلشیں

چپقلشیں اب میاں جہاں محبت ہوگی وہاں کھٹی میٹھی لڑائیاں تو ہوں گی ہی نا، لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ لوگ ایک دوسرے سے بات کرنا ہی چھوڑ دیں، ساری رواداری، ساری محبت، سارے مکالمات ماضی کی دیواروں میں چن دیئے جائیں اور سارے تعلقات توڑ دیئے جائیں ؟ ارے تعلقات سے کسی کا بڑا عمدہ شعر یاد آرہا ہے آپ بھی سن لیں شاید جلال میں کچھ افاقہ ہو۔ کہتے ہیں، ترک تعلقات کو اِک لمحہ چاہیئے لیکن تمام عمر مجھے سوچنا پڑا ایک یہ جناب ہیں جو ایک عمر غور و فکر کرنے بعد بھی ترک تعلقات کے سلسلے میں شش و پنج کے شکار ہیں اور ایک آپ ہیں جو، "ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے" وہ تو ہماری شرافت ہے جو جواب نہیں دیتے ورنہ اگر ہم بھی پلٹ کر پوچھ لیں، تم ہی کہو یہ اندازِ گُفتگو کیا ہے ؟ تو آپ سے جواب نہ بنے گا۔ خیر چھوڑیئے، آپ کی تو بس ایک ہی رٹ ہے، رات گئی بات گئی، میں نے بول دیا ختم تو ختم ۔  اِس رٹ کو سن کر نہ جانے کیوں مجھے اُس رٹو طوطے کی یاد آجاتی ہے جو راجہ کی ہر بات کے جواب میں کہتا تھا، "اِس میں کیا شک ہے ؟"  ارے ارے برہم نہ ہوں میں آپ کو طوطا نہیں کہہ رہا بس یونہی ایک پرانی کہانی کا اہم...

قسطوار حاصلِ مطالعہ عبقرية محمدﷺ ‏- ‏قسط ‏۵

حاصلِ مطالعہ عبقرية محمدﷺ احمد سعید قادری بدایونی قسط ۵ اگر دنیا کے کامیاب ترین دعاۃ کی ایک فہرست تیار کی جائے تو محمد ﷺ اُس فہرست کی سرپرستی و صدارت کرتے نظر آئیں گے اسی طرح دنیا میں جتنی بھی دعوتی تحریکیں نمودار ہوئی ہیں اُن تمام تحریکوں میں اپنے اہداف و مقاصد کے لحاظ سے کوئی تحریک اگر سب سے زیادہ واضح اور کامیاب تحریک ہونے کا تمغہ رکھتی ہے تو اُس تحریک کا نام ہے "دعوتِ محمدیہ" اور اگر کوئی انسان اس عظیم تحریک کے واضح و کامیاب ہونے کا انكار کرتا ہے تو پھر اس روئے زمین پر کوئی بھی تحریک پوری انسانی تاریخ میں نہ تو اپنے اہداف و اغراض میں واضح تھی اور نہ ہی کوئی تحریک کبھی کامیاب ہوئی۔ آپ نے وہ کہاوت تو سنی ہوگی "کِھسیانی بلی کھمبا نوچے"  دنیا کے ایک بڑے طبقہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے کیونکہ جب کوئی انسان دعوتِ محمدیہ کی انفرادیت و کامیابی کا انکار کرنے کی ہمت نہ جٹا سکا تو اِن لوگوں نے اس دعوت کو بد نام کرنے کے لئے یہ کہنا شروع کردیا کہ جس دعوت کو محمد ﷺ نے عام کیا اصل میں دنیا کو اُس کی ضرورت ہی نہیں تھی اور رہا اُس کی کامیابی کا سبب تو وہ وعد و وعید، تلوار کے ذریع...

شاعر

شاعر خلیل جبران ترجمہ : احمد سعید قادری بدایونی  میں اس دنیا میں اجنبی ہوں اور اجنبیت و غربت کا جام ہمیشہ دل سوز اور تکلیف ده تنہائی سے لبریز رہتا ہے مگر اس کے باوجود بھی یہ اجنبیت مجھے ایک جادوئی ملک کی سیر کراتی رہتی ہے اور میرے سپنوں میں ایسے خیالی شہر  دکھاتی ہے جس کو میں نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔ میں اپنے گھر والوں اور دوستوں کے لئے بھی اجنبی ہوں کیونکہ اگر مُجھے اُن میں سے کوئی ملتا ہے تو میں خود سے سوال کرتا ہوں کہ، " یہ کون ہے ؟ میں اِس کو کیسے جانتا ہوں ؟ کس رشتے کی ڈور نے ہمیں باندھ رکھا ہے اور میں کیوں اِس انسان کے پاس بیٹھ رہا ہوں ؟". میں اپنے آپ سے بھی اجنبی ہوں،  یہاں تک کہ جب میں اپنی زبان کو بولتے سنتا ہوں تو میرے کان میری آواز سے سرگوشی کرنے لگتے ہیں، میں اپنی پوشیدہ ذات کو کبھی ہنستا، کبھی روتا تو کبھی ڈرا سہما پاتا ہوں حد تو یہ ہے کہ میرا وجود خود میرے وجود ہی سے حیران ہو جاتا ہے، پھر پریشان ہو کر میں اپنی روح سے سوال کرتا ہوں لیکن وہ بھی میرے سوالوں کا جواب دینے سے قاصر مجھے تنہائی و غربت کے اندھے کنویں میں پھنسا حیرت و استعجاب کی زنجیروں میں جکڑا ہوا چھو...

میرا شیخ

میرا شیخ وہ کسی نے کہا ہے نا، آج پھر ٹوٹے ہوئے دل میں تیری یاد آئی جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے آج افطار بعد سے ہی صحرائے دل تپتے ریگزاروں کی تپش سے جُھلسا کِسی کی ٹھنڈى یاد کا منتظر اپنے ہی سائے میں روشنی تلاشنے کی کوشش کررہا تھا۔ سینے میں ایک عجیب سی کسک نے گھر بنایا ہوا تھا۔ جگر میں موجود لہو کسی کی یاد میں جوش مار رہا تھا۔ عقل کِسی کے منتشر ہوتے خیالات کو یکجا کرنے کی ناکام کوشش میں مصروفِ کار خود کو ہلکان کر رہی تھی۔ یہ سارا وجود سورج مُکھی کی صورت اپنے آفتاب کا مشتاق ہوئے جا رہا تھا کہ اچانک اُفقِ فکر پر خیال بن کر کسی کی دل آویز صورت طلوع ہوئی، چوڑی ‌پیشانی نورانی چہرہ بڑی بڑی حسین و دلفریب آنکھیں کھڑی ناک بھرے ہوئے رخسار گلاب کی پتی کی مانند ہونٹ  سیاہ داڑھی میانہ قد مضبوط شانے نرم و نازک ہاتھ چال میں غضب کا اعتماد گفتار میں من موہ لینے والی چاشنی عقل حیران تھی کہ خداوندا یہ کس کی صورت ہے جس کے ذہن میں آتے ہی کلیجے کو ٹھنڈک سی مل گئی ہے، بے قابو ہوتے جذبات قابو میں آنے لگے ہیں، دماغ کے چودہ طبق روش...

وہ بچپن جو کہیں کھو گیا

وہ بچپن جو کہیں کھو گیا وقت انسان کی مٹھی میں قید اُس ریت کی طرح ہوتا ہے جس کو آپ جتنی طاقت سے دباؤگے وہ اتنی ہی تیزی سے آپ کی مٹھی سے آزاد ہو کر زمین کو چوم لے گی۔ ہر کسی کی زندگی میں اُتار چڑھاؤ آتے ہیں کُچھ کھٹی میٹھی یادیں ہوتی ہیں تو کچھ تلخ و کڑوی باتیں۔ کُچھ کو ہم کبھی یاد نہیں کرنا چاہتے اور کُچھ کو یاد کئے بنا جی نہیں پاتے۔ وہ پچپن جس کی معصومیت میں نہ ہمیں کل کی فکر ہوتی تھی نا شام کا ملال، نا رات آنے کا ڈر نہ صبح کی روشنی سے چِڑ، بس اپنی دھن میں مگن رہنا نہ کِسی کی سننا نہ کسی کی کہنا۔  صبح اٹھتے اٹھتے ابّو امی سے کوئی نہ کوئی فرمائش کرنا پوری نہ ہونے پر غبارے جیسے منھ پھولا لینا۔  چھوٹی چھوٹی چیزوں کے ملنے پر خوشی سے پورے گھر کو سر پر اٹھا لینا۔ اٹھنّی کی ٹافی کو چوس چوس کر دیر تک کھانا، یاروں کے ساتھ جمع ہو کر گپّے لڑانا۔ ذرا ذرا سی بات پر دوستوں سے لڑنا اور پھر ایک مسکراہٹ سے اُس ساری لڑائی کو بھول جانا، نہ دل میں کوئی کدورت نہ من میں کوئی میل، من مٹاؤ سے پرے، حسد و جلن سے دور۔ اونچ نیچ سے بہت اوپر، پیار محبت سے سٹے ہوئے۔ وہ سنہرا وقت اتنی تیزی سے گزرا کہ ہم بس آ...

مونچھ کا قتل - ایک حادثہ

مونچھ کا قتل - ایک حادثہ لوک ڈاؤن کے چلتے سر، داڑھی، مونچھ کے بڑھتے بالوں سے سبھی پریشان تھے پر کیا کرتے ؟ حجامت کرانے کے لئے حضرتِ حجام کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ جس طرح نیم حکیم خطرۂ جان ہوتا ہے اسی طرح نیم حجام خطرۂ بال۔ اب مرتا کیا نہ کرتا۔؟ لہٰذا کچھ لوگوں نے قینچی سے اپنی داڑھی مونچھ کو تراشنا شروع کیا تو کُچھ لوگوں کے حصے میں آئی ٹریمر کی چھٹائی۔ آخر الذکر لوگوں کی صف میں شامل ہونے کی سعادت ہم نے بھی حاصل کی۔ ہم نے بھی اپنا برانڈ نیو ٹریمر اٹھایا اور لگے اپنی تاؤ دیتی مونچھوں کو تراشنے اب چونکہ پہلی بار حضرتِ ٹريمر سے واسطہ پڑا تھا، اب سے پہلے تو اقبال بھائی ہی‌ اپنے لہراتے کنگے اور چمکتی قینچی سے مونچھوں کی مرمت کر دیتے تھے جس کی وجہ سے مونچھیں ذرا گھمنڈی ہو گئیں تھیں اور دس نمبر پر سیٹ ٹریمر کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی تھی انہیں یہ گمان تھا کہ یہ کل کا پیدا ہوا ٹریمر قینچی کنگے کا کیا مقابلہ کریگا۔ ٹریمر اپنی پوری توانائی صرف کر رہا تھا اور مونچھ ہے کہ کٹ ہی نہیں رہی تھی الٹا ٹریمر پر ہنس رہی تھی۔ ٹریمر اپنی یہ بے عزتی برداشت نہ کر سکا اور غصّہ میں لال پیلا ہو کر اپنے باریک بلیڈز کو ...

کِسی سے اب کوئی بچھڑے تو مر نہیں جاتا

کِسی سے اب کوئی بچھڑے تو مر نہیں جاتا احمد سعید قادری بدایونی- ٣ مئی ۲۰۲۰، رات ۲:۵۰ منٹ ہائے کمبخت کیا قیامت ہے ؟ جگر سے رستا خون، دل سے نکلتی آہیں، فریاد کرتی زبان، چارہ گر کی تلاش میں پاؤں کے چھالوں سے بےنیاز مقدر میں آتیں در بدر کی ٹھوکریں، تنہائی کی اذیتیں، ہجر کی صعوبتیں، ماضی کی حسین یادوں کے عذابوں سے دوچار رہنا، ہر قربت کا ناسور بن کر درد دینا، وصل کے لمس کو تلاش کرنا، رات کی نیند سے بیزار آنکھوں سے خون کے آنسو رونا، ایک زندہ لاش بن کر جینا۔  کیا اسی سب کا مطلب ہے کسی سے اب کوئی بچھڑے تو مر نہیں جاتا۔۔۔؟ بہت آسان ہوتا ہے کہہ دینا اور ایک عذاب ہوتا ہے اس کو سہنا۔ کس کس چیز سے دور بھاگو گے؟ کس کس یاد سے دامن چھوڑاؤگے؟  اُس پہلی ملاقات سے ؟ نا ممکن اُس کی یاد سے ؟ نا ممکن اس کے خیال سے ؟ نا ممکن اُس کی جادوئی بات سے ؟ نا ممکن محبت بھرے نغمات سے ؟ نا ممکن رات کے آخری پہر کی جانے والی قرب و وصل کی بات سے ؟ نا ممکن اُس کو آتا دیکھ دل میں ہنگامہ برپا کرنے والے جذبات سے ؟ نا ممکن ہر ملاقات پر ملنے والی حسین مُسکان سے ؟ نا ممکن اُس کے پہلو میں بتائے جانے والے حسین لمحات سے ؟ نا...

مُردوں کے شہر میں

مُردوں کے شہر میں خليل جبران ترجمہ - احمد سعید قادری بدایونی بروز جمعہ، ۱ مئى ٢٠٢٠ کل شہر کی افراتفری، شور و غل سے تنگ آ کر میں سکون کی تلاش میں جنگلات و باغات کی طرف نکل کھڑا ہوا اور چلتے چلتے ایک ایسے ٹیلے پر جا پہنچا جسے قدرت نے ہریالی کے زیور سے ایسا آراستہ کیا تھا جس کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون مل جائے، جہاں نہ بلند و بالا گھمنڈی عمارتیں کِسی نظّارہ کے بیچ حائل ہو سکتی تھیں نہ محلات کی اونچائی نظر کے آڑے آ سکتی تھی گویا ایک ایسا ٹھکانہ جس کے سامنے پورا شہر کارخانوں، فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوائیں کی کثیف پرت میں ایسے چھپا ہوا نظر آرہا تھا جیسے گھنگھور گھٹا میں سورج بادلوں کے پیچھے روپوش ہو جاتا ہے۔ میں دور بیٹھا کُچھ دیر تک لوگوں کے کاموں اور رویّوں کے بارے میں سوچتا رہا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اکثر و بیشتر لوگوں سے صرف تکلیف کی ہی اُمید کی جا سکتی ہے پھر دل میں خیال آیا چھوڑو لوگوں کے رویّوں کے بارے میں سوچنا ہی کیوں؟ یہ کہہ کر میں نے اپنے نظر باغوں کں طرف گھمالی جہاں قدرت کے حسین مناظر اپنی تمام تر خوبصورتی و رعنائی کے ساتھ ہر ایک کو دعوتِ نظّارہ دے رہے تھے کہ یکا...

قسطوار حاصلِ مطالعہ عبقرية محمدﷺ ‏- ‏قسط ‏۴

حاصلِ مطالعہ عبقرية محمد ﷺ تحرير - احمد سعيد قادرى بدايونى قسط ٤ کِسی انسان کا لوگوں کے نزدیک محبوب ہونا اور بھروسے مند ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔ اکثر و بیشتر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کو لوگ بحیثیت اچّھا انسان پسند تو کرتے ہیں اور محبوب بھی گردانتے ہیں لیکن اُس کی کسی بات پر بھروسہ نہیں کرتے اسی طرح اُس کے ساتھ کسی طرح کا کوئی معاملہ کرنے سے بھی کتراتے ہیں لیکن محمد ﷺ کی ذات جس طرح لوگوں کے درمیان محبویت و اُلفت و وارفتگی کا مرقع تھی اس طرح آپ حق گوئی و دیانتداری میں ایسی یکتائے روزگار اور منفرد شخصیت کے مالک تھے جس کی صداقت و دیانتداری کی قسمیں اپنے تو اپنے غیر کھایا کرتے تھے۔ آپ کو معلوم ہوگا جب پہلی مرتبہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو دین کی دعوت دی اُس موقعہ پر پہلے آپ نے جبل ابو قبیس پر کھڑے ہو کر اپنی صداقت کی گواہی دلوائی اور فرمایا، "اے لوگو ! اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک لشکر تم پر حملہ آور ہونے والا ہے تو کیا تم لوگ میری بات پر یقین کروگے؟" (۱) تمام كُتبِ سيرت و تاریخ بتاتی ہیں کہ اس بات کا جواب تمام اہلِ مکّہ نے ایک زبان ہوکر "آپ سچے، امانت دار اور ایسے...