قسطوار حاصلِ مطالعہ عبقرية محمدﷺ ‏- ‏قسط ‏۵

حاصلِ مطالعہ عبقرية محمدﷺ
احمد سعید قادری بدایونی
قسط ۵

اگر دنیا کے کامیاب ترین دعاۃ کی ایک فہرست تیار کی جائے تو محمد ﷺ اُس فہرست کی سرپرستی و صدارت کرتے نظر آئیں گے اسی طرح دنیا میں جتنی بھی دعوتی تحریکیں نمودار ہوئی ہیں اُن تمام تحریکوں میں اپنے اہداف و مقاصد کے لحاظ سے کوئی تحریک اگر سب سے زیادہ واضح اور کامیاب تحریک ہونے کا تمغہ رکھتی ہے تو اُس تحریک کا نام ہے "دعوتِ محمدیہ" اور اگر کوئی انسان اس عظیم تحریک کے واضح و کامیاب ہونے کا انكار کرتا ہے تو پھر اس روئے زمین پر کوئی بھی تحریک پوری انسانی تاریخ میں نہ تو اپنے اہداف و اغراض میں واضح تھی اور نہ ہی کوئی تحریک کبھی کامیاب ہوئی۔
آپ نے وہ کہاوت تو سنی ہوگی "کِھسیانی بلی کھمبا نوچے"  دنیا کے ایک بڑے طبقہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے کیونکہ جب کوئی انسان دعوتِ محمدیہ کی انفرادیت و کامیابی کا انکار کرنے کی ہمت نہ جٹا سکا تو اِن لوگوں نے اس دعوت کو بد نام کرنے کے لئے یہ کہنا شروع کردیا کہ جس دعوت کو محمد ﷺ نے عام کیا اصل میں دنیا کو اُس کی ضرورت ہی نہیں تھی اور رہا اُس کی کامیابی کا سبب تو وہ وعد و وعید، تلوار کے ذریعے ڈرانے دھمکانے اور اُخروی نعمتوں کے نام پر شراب، حور و غلمان کی لذت کا لالچ دینے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ لوگ کس قتل و مقاتلہ، زور زبردستی  اور ڈرانے دھمکانے کا حوالہ دیکر  محمد ﷺ کی دعوت کی کامیابی کو جسٹیفائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی دعوت کے سلسلے میں جس تلوار کا خوف دلا کر دعوت قبول کرنے کا یہ لوگ حوالہ دے رہے ہیں وہ تلوار محمد ﷺ نے اہلِ مکہ پر مسلط نہیں کی تھی بلکہ اہلِ مکہ نے محمد ﷺ اور اُن کے ماننے والوں پر اٹھا رکھی تھی، سمیہ کا پیٹ چیرنے سے لیکر (باستثناء ابو لہب)  پورے خاندانِ بنی ہاشم  کا سوشل بائکاٹ کرکے شعب ابی طالب میں قید کرنے تک، بلال حبشی کو تپتی ریت پر لٹا کر بھاری پتھر تلے دبانے سے لیکر حبشہ تک مسلمانوں کا پیچھا کرتے ہوئے نجاشی کو بھڑکانے کی کوشش کرنے تک،  محمد ﷺ کے قتل کی سازش کرنے سے لیکر مدینے کے راستے تک آپ کے پیچھے گُھڑ سوار بھیجنے تک، سارے ظلم و ستم تو محمد ﷺ اور اُن کے متبعین پر روا کئے گئے تھے، تلواریں تو ہمیشہ محمد ﷺ اور اُن کے ساتھیوں پر اٹھائی گئیں اُنہوں نے ہمیشہ خود کو بچانے کے لئے کبھی حبشہ کا رُخ کیا تو کبھی مدینے چلے گئے۔ اس سب کے بیچ  محمد ﷺ نے کس کو تلوار سے ڈرا کر اپنی بات ماننے کو کہا؟ اور کون ہے وہ شخص جس نے تلوار کے ڈر سے محمد ﷺ کی دعوت قبول کی؟ شاید یہ نادان معترضين یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ جو سر طاقت کے زور پر جھکایا جاتا ہے وہ طاقت کے زوال کے ساتھ پھر سے سرکش بھی ہو جاتا ہے اگر محمد ﷺ نے تلوار سے ڈرا کر دعوت قبول کرنے پر مجبور کیا تھا تو اُس وقت (بظاھر) تو محمد ﷺ سے زیادہ طاقتور سردارانِ مکہ تھے اُس مظلوم شخص نے محمد ﷺ کے خلاف اُن کی مدد کیوں نہیں لی؟ نیز جب بزورِ شمشیر بلال و سمیہ نے دعوت قبول کی تھی تو اِن دونوں نے  پیٹ چاک کرتی تلوار اور تپتی ریت پر پتّھر تلے دبنے کے باوجود بھی اُس پیغام کو ماننے سے انکار کیوں نہیں کیا؟

اما میاں!  تلوار کا خوف دکھا کر کسی کو اپنی بات ماننے پر مجبور کرنا تو درکنار محمد ﷺ تو ایک ایسے عظیم و رحمدل داعی و قائد کا نام ہے جس نے میدانِ جنگ میں بھی اپنے خون کے پیاسوں کو پانی کا پیاسا نہیں رہنے دیا اور اپنے مقبوضہ کنویں سے پانی لے جانے کی اجازت دے دی۔ 
مزید یہ کہ اِن خود ساختہ معترضین کو محمد ﷺ کی جانب سے اٹھتی تلواریں تو دکھتی ہیں لیکن اِن کو یہ نظر کیوں نہیں آتا کہ بدر و اُحد، خندق و تبوک میں اٹھنے والی مسلمانوں کی تلواریں اپنی سلطنت قائم کرنے یا بدلہ لینے کے لئے نہیں تھیں بلکہ اہلِ مکہ سے اپنا دفاع،انسدادِ ظلم اور اتنکواد کا خاتمہ کرنے کے لئے اٹھائی گئیں تھی اور عالمی دفاعی قوانین کی روشنی میں اپنا دفاع کرنا ہر انسان کا فطری حق ہے۔


جاری۔

Comments

  1. بہت شاندار صاحب
    اگلی قسط کا انتظار رہے گا۔

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

اہلِ دل کی بزم اور ایک دور کھڑا مسافر

عتبات تضيء أكثر من الدروب

عربی محاورات مع ترجمہ و تعبیرات - ایک مطالعہ