Posts

Showing posts from July, 2020

ترجمہ نگاری نثر کی "سہلِ ممتنع"

ترجمہ نگاری نثر کی "سہلِ ممتنع" ترجمہ نگاری ہم کو جتنی آسان لگتی ہے اصل میں یہ کام اُتنا ہی مشکل ہے جیسے کہ اُردو شاعری میں "سہلِ ممتنع" کی اصطلاح کو ہی لے لیجئے، جِس کو پڑھ کر تو لگتا ہے کہ ایسے سادہ الفاظ میں شعر کہنا تو بڑا آسان ہے لیکن جب بات شعر کہنے کی آتی ہے تو بڑے بڑے استاذ شاعروں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ مثلاً مومن کا شعر دیکھیں، تم میرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا یا میرؔ کا یہ شعر پڑھیں، رات محفل میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ غالب کو دیکھیں، کہتے ہیں، آگے آتی تھی حال دل پر ہنسی اب کسی بات پر نہیں آتی اکبر الہٰ آبادی کُچھ یوں گویا ہوتے ہیں، بس یہی کام سب کو کرنا ہے یعنی جینا ہے اور مرنا ہے سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں یہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں ناصر کاظمی صاحب کا یہ شعر بھی ملاحظہ ہو، شہر میں شور، گھر میں تنہائی دل کی باتیں کہاں کرے کوئی مذکورہ تمام اشعار سہلِ ممتنع کی مثال ہیں جن کے اُسلوب کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ اتنے سادے الفاظ اور اتنا گہرا مفہوم ؟ شاعری تو بڑی آسان ہے اِس میں جو بات کہی گئی ہے وہ اتنی س...