ترجمہ نگاری نثر کی "سہلِ ممتنع"
ترجمہ نگاری نثر کی "سہلِ ممتنع"
ترجمہ نگاری ہم کو جتنی آسان لگتی ہے اصل میں یہ کام اُتنا ہی مشکل ہے جیسے کہ اُردو شاعری میں "سہلِ ممتنع" کی اصطلاح کو ہی لے لیجئے، جِس کو پڑھ کر تو لگتا ہے کہ ایسے سادہ الفاظ میں شعر کہنا تو بڑا آسان ہے لیکن جب بات شعر کہنے کی آتی ہے تو بڑے بڑے استاذ شاعروں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔
مثلاً مومن کا شعر دیکھیں،
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
یا میرؔ کا یہ شعر پڑھیں،
رات محفل میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے
جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ
غالب کو دیکھیں، کہتے ہیں،
آگے آتی تھی حال دل پر ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
اکبر الہٰ آبادی کُچھ یوں گویا ہوتے ہیں،
بس یہی کام سب کو کرنا ہے
یعنی جینا ہے اور مرنا ہے
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
یہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں
ناصر کاظمی صاحب کا یہ شعر بھی ملاحظہ ہو،
شہر میں شور، گھر میں تنہائی
دل کی باتیں کہاں کرے کوئی
مذکورہ تمام اشعار سہلِ ممتنع کی مثال ہیں جن کے اُسلوب کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ اتنے سادے الفاظ اور اتنا گہرا مفہوم ؟ شاعری تو بڑی آسان ہے اِس میں جو بات کہی گئی ہے وہ اتنی سلیس و سادہ ہے کہ مزید اُسلوب و الفاظ میں کسی حذف و اضافے کی ضرورت نہیں ہے لہٰذا ہم بھی ایسے اشعار کہہ سکتے ہیں۔ لیکن جب یہی بات ہم، آپ یا کوئی مبتدی شاعر کہنا چاہے تو پسینے چھوٹ جائیں گے وجہ یہ ہے کہ مومن و میر، غالب و اکبر و ناصر یہ سب اپنے اپنے دور کے چوٹی کے شعراء ہیں اور اِن سب نے اپنی پوری زندگی شعر و سخن کی زلفیں سنوارنے میں گزار دی، لہٰذا اُن کے لئے ایسے اشعار کہنا کوئی مشکل نہیں۔
اِسی طرح جب ہم کوئی ایسی کتاب/مضمون/شعر پڑھتے ہیں جو ہماری مادری زبان میں نہیں ہوتا ہے لیکن چونکہ ہمیں اُس زبان کی تھوڑی شد بد ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہم اُس کتاب/مضمون/شعر کے مفاہیم کو حتی المقدور سمجھ لیتے ہیں لیکن جب ہم اُس تخلیق کا مستقل ترجمہ کرنے بیٹھتے ہیں تو الفاظ کا دامن تنگ ہو جاتا ہے اور تعبیرات دور اُفق میں جا چھپتی ہیں نتیجتاً کتاب/تخلیق پڑھتے وقت ترجمہ کرنے کے لئے جس سلسبیلی نثر کا خاکہ ہم نے اپنے ذہن میں بنایا تھا اُس کا شیش محل چکنا چور ہو جاتا ہے۔
لہٰذا کسی بھی چیز کا ترجمہ کرنے سے قبل درج ذیل نکات کو ذہن نشین کرنا بہت ضروری ہے،
۱۔ جس زبان سے ترجمہ کیا جا رہا ہے (Source Language) اور جس زبان میں ترجمہ کر رہے ہیں (Target Language) دونوں زبانوں کی کم از کم ۵۰/٦۰ فیصد سمجھ ہونا چائیے۔
۲. ترجمہ شدہ کُتب و مضامین کا مطالعہ کرنا۔
۳. اصل زبان کی عبارت کو بخوبی سمجھنا اور پھر اِس طور پر ترجمہ کرنا کہ آپ کا ترجمہ، ترجمہ نہ لگے۔
۴. لفظ بلفظ ترجمہ کرنے سے بچنا بالفاظِ دیگر لفظی ترجمے سے پرہیز کرنا۔
۵۔ مستقل مشق۔
۶. جدید تعبیرات کی تلاش میں رہنا۔
۷. سادہ و سلیس اُسلوب اپنانا۔
یوں تو فنِ ترجمہ نگاری پر مستقل کتابیں موجود ہیں نیز ترجمہ کرتے وقت کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیئے، اِس کی فہرست بھی کافی لمبی ہو سکتی ہے لیکن اختصار کے ساتھ درج بالا سطور بھی ترجمہ نگاری کی نزاکتوں سے آشنا کرانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
نوٹ : فن ترجمہ سے شغف رکھنے والے احباب درج ذیل عربی/اُردو کُتب سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
عربی کتب:
۱. فن الترجمة - ڈاکٹر محمد العنانی
۲۔ الأسس النظرية للترجمة العلمية - ڈاکٹر نور الدين حالى (اس کتاب میں مصنف نے جگہ جگہ ڈیاگرم کے ذریعے اسماء کی تقلیب و دیگر متعلقہ اُمور کو سمجھایا ہے).
۳. الأساس في الترجمة - پروفیسر سامی خلیل شاہد/ڈاکٹر عبد الرحمن محسن ابو سعدہ
اُردو کُتب:
۱. فن ترجمہ نگاری - پروفیسر ظہور الدین
۲. فن ترجمہ نگاری - مرتبہ خلیل انجم
۳. انگریزی ترجمہ کا فن - محمد طیب دہلوی
۴. ترجمہ: روایت اور فن - مرتبہ نثار احمد قریشی
احمد سعید قادری بدایونی
بروز جمعہ، ۳ جولائی ۲۰۲۰
Comments
Post a Comment