Posts

Showing posts from 2020

میرے استاذ: شیخ صاحب

Image
میرے استاذ: شیخ صاحب   کبھی کبھی دل میں رہ رہ کے ایک کسک سی اٹھتی ہے مانو کسی کی یاد کے جھونکے اپنی پوری توانائی کے ساتھ دل کے دروازے کو توڑنے پر آمادہ ہوں اور یہ ناتواں دل آنکھوں میں پربا ہونے والے سیلاب کے خوف سے خود کو طاقتور ظاہر کرنے کی ناکام کوشش میں لگا رہتا ہے لیکن طوفان کے آگے کون ٹک سکا ہے؟ آخر کار اُس پریوش کی یادوں کے جھونکے سرررر کرتے ہوئے دل کے سارے دروازے توڑ کر آنکھوں کے راستے رخسار چُوم لیتے ہیں۔ اُس کی یاد میں بہنے والے آنسوؤں سے جب آنکھ پاک ہوجاتی ہے تو ماضی کے جھروکہ سے ایک ایک کرکے ساری مضمحل یادیں تصویر بن کر سامنے آن کھڑی ہوتی ہیں۔ سمجھ نہیں آرہا کہاں سے شروع کروں؟ ذہن سُن سا ہوگیا ہے، اُنگلیاں ارتعاش زدہ آگے لکھنے سے قاصر سوالیہ نظروں سے کیبورڈ  کو تکے جا رہی ہیں۔ آہ! یہ کمبخت دل بھی نا عجیب بلا ہے کبھی اتنا آہستہ دھڑکتا ہے کہ جیسے رُک ہی جائے گا اور کبھی ایسے دھک دھک کرے ہے کہ بس ابھی سینہ چیر کر باہر آ جائے گا لیکن آج نا تو یہ تیز ہی دھڑک رہا ہے اور نا آہستہ بلکہ کمبخت یادوں کی بارات لے کر مُرغ بسمل کا تماشہ دیکھنے پر آمادہ ہے۔   ...

میری دوست، میری کتاب

Image
  میری دوست، میری کتاب یہ کتاب بھی کسی افیون سے کم تھوڑی نہ ہوتی ہے ایک بار لت لگ جائے پھر دنیا ایک طرف اور کتابی عاشق ایک طرف۔ مرحوم مجنوں کی لیلیٰ کے تئیں وارفتگی کی ہم قدر کرتے ہیں لیکن جو کوئی کتاب کی سیاہ روشنائی سے بھری وادی میں کھو گیا پھر اس کے لئے کیا رات اور کیا دِن؟ نجد والے جو قیس ہیں نا؟ سنا ہے اُنہوں نے لیلیٰ کے غمِ ہجر میں مصر کا رخ کرلیا تھا اور پھر وہیں مصر کے ریگزاروں میں ہمیشہ کے لئے سوگئے اور رہے ہمارے کتاب کے مجنوں تو جب یہ اپنی محبوبہ کے کھردرے اور سیاہی کی خوشبو سے مہکے بدن سے دور ہوتے ہیں تو قلمدان کا دروازہ کھول کر قلم کو قید سے رہائی دلا کر سیاہی سے پُر دوات کے کنویں میں پاؤں پکڑ کے ڈالتے ہیں اور پھر اُس تاریک سیاہ چار دیواری میں قید روشنائی سے روشن کرکے سفید ورق پر دل کے جذبات رقم کرنے شروع کردیتے ہیں۔ ارے میاں! اللہ بخشے مجھ خبطى کو، کہنا کُچھ تھا اور کیا بَک رہا ہوں، ایسا لگے ہے چچا غالب میرے لئے کہہ گئے ہیں : بَک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کُچھ کُچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی چلیں کوئی مسئلہ نہیں، اب انسانی ذہن ہے کوئی مشین تو نہیں جس کو جیسا پر...

عربی محاورات مع ترجمہ و تعبیرات - ایک مطالعہ

Image
عربی محاورات مع ترجمہ و تعبیرات - ایک مطالعہ اچّھا ! تو میں کہہ یہ رہا تھا کہ ویسے تو ہماری اُردو، ہندی دونوں زبانوں میں ہی بے شمار محاورے پائے جاتے ہیں، ہاں! یہ الگ بات ہے کہ ہم "ناچ نا آوے، آنگن ٹیڑھا" اور "نا نَو مَن تیل ہوگا، نا رادھا ناچے گی" جیسے محاوروں/ضرب الامثال کو اپنے حریف پر حملہ کرنے یا کسی کو زچ کرنے کے لئے بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ ارے نہیں! میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ زچ کرتے ہیں بس ایک بات کہی ناراض نہ ہوں اور نا یہ سمجھیں کہ پیشِ نظر تحریر میں ہم اُردو محاوروں کی بات کرنے جا رہے ہیں وہ کبھی اور کریں گے آج کچھ عربی محاوروں کی بات کرتے ہیں۔ اب دیکھیں، عربی زبان میں ایک محاورہ استعمال ہوتا ہے "أخذ حِزامَ الطَريق " جس کا مطلب ہوتا ہے "صحیح قدم اٹھانا یا صحیح راستہ اختیار کرنا" لیکن آپ کو یہ جان کر قدرے حیرانی ہوگی کہ اس جملے کو "محاورہ" لکھنے کے بعد میں یہ سوچ کر پریشان ہوں کہ اس کو محاورہ کہہ کر میں نے صحیح قدم اٹھایا ہے یا غلط ؟ کیونکہ عربی ادباء و لغویئین نے لفظِ محاورہ اور ضرب المثل کے اطلاق کو لیکر اتنی "س...