میری دوست، میری کتاب

 

میری دوست، میری کتاب

یہ کتاب بھی کسی افیون سے کم تھوڑی نہ ہوتی ہے ایک بار لت لگ جائے پھر دنیا ایک طرف اور کتابی عاشق ایک طرف۔

مرحوم مجنوں کی لیلیٰ کے تئیں وارفتگی کی ہم قدر کرتے ہیں لیکن جو کوئی کتاب کی سیاہ روشنائی سے بھری وادی میں کھو گیا پھر اس کے لئے کیا رات اور کیا دِن؟

نجد والے جو قیس ہیں نا؟ سنا ہے اُنہوں نے لیلیٰ کے غمِ ہجر میں مصر کا رخ کرلیا تھا اور پھر وہیں مصر کے ریگزاروں میں ہمیشہ کے لئے سوگئے اور رہے ہمارے کتاب کے مجنوں تو جب یہ اپنی محبوبہ کے کھردرے اور سیاہی کی خوشبو سے مہکے بدن سے دور ہوتے ہیں تو قلمدان کا دروازہ کھول کر قلم کو قید سے رہائی دلا کر سیاہی سے پُر دوات کے کنویں میں پاؤں پکڑ کے ڈالتے ہیں اور پھر اُس تاریک سیاہ چار دیواری میں قید روشنائی سے روشن کرکے سفید ورق پر دل کے جذبات رقم کرنے شروع کردیتے ہیں۔

ارے میاں! اللہ بخشے مجھ خبطى کو، کہنا کُچھ تھا اور کیا بَک رہا ہوں، ایسا لگے ہے چچا غالب میرے لئے کہہ گئے ہیں:

بَک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کُچھ

کُچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

چلیں کوئی مسئلہ نہیں، اب انسانی ذہن ہے کوئی مشین تو نہیں جس کو جیسا پروگرام کردیا ویسے ہی چلتی رہے؟ (حالانکہ کبھی کبھی انسانی فطرت کے غلبہ کے سبب اُس کا بھی دماغ خراب ہو جاتا ہے)۔

آپ یہ سب چھوڑیں! جو کہہ دیا سو کہہ دیا لیکن اب میں اصل مُدے پر آتا ہوں وہ یہ کہ عربی کے مشہور شاعر متنبی کے ایک شعر کا بہت آوارہ مصرعہ ہے "وَخَيْرُ جَلِيْسٍ في الزَّمانِ كِتابُ" دنیا میں سب سے بہترین دوست/ہمنشیں کتاب ہے۔

نہیں نہیں! آوارہ سے میرا مطلب کوچہ و بازار، دیر و حرم اور ساقی و واعظ کی گلیوں کے چکر لگانے والا نہیں ہے، میرا مطلب ہے کہ یہ مصرعہ بہت مشہور ہے۔

آپ میری اس بات سےاتفاق کریں گے کہ کتاب ایک ایسی دوست ہے جس کی قربت میں صبح بنارس و شام اودھ کا لطف آتا ہے۔ ایک ایسی دوست جس کے دیدار سے آنکھوں کو ٹھنڈک، دل کو چین اور دماغ کو علم کی غذا حاصل ہو تی ہے۔ایسی رفیق سفر جو آپ کو علم سے روشناس کرانے کے لئے اپنا چاند سا چہرہ کالا کرانے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ ایک ایسا دوست جو بنا کُچھ بولے ہی آپ کے سارے مسائل حل کردے۔ ایسا رفیقِ ہمدم جو بنا سوال کئے آپ کے ساتھ ہر جگہ چلنے کو راضی ہو جائے۔ ایک ایسا فرمانبردار ساتھی جو آپ کی حکم کی بجاآوری میں ہر اُس شخص کو اپنے زیور سے آراستہ کردے جس کے ساتھ آپ اُس کو ہو جانے کا حکم دے دیں۔

ہر علم و حکمت کا متلاشی انسان یہی کہتا نظر آئے گا کہ ذاتی مفاد سے پرے، اپنی ہر چیز آپ پر نچھاور کرنے والا، سراپا شفقت و محبت، علم و حکمت، تہذیب و ثقافت، شعر و ادب کا گنجینہ اور ہمہ وقت آپ کی فکر میں ہلکان رہنے والا دوست کوئی اور نہیں بس ایک کتاب ہی ہو سکتی ہے۔

وہ کتاب جسے اگر آنکھ دکھنے لگے تو چہرے پر رکھ کر کُچھ دیر آرام کرلو،بیٹھے بیٹھے تھک جاؤ تو ہاتھوں میں اٹھا کر آنکھیں ٹھنڈی کرلو، ہاتھ بھی تھک جائیں تو سینے پر رکھ لو یا کبھی گھٹنوں کو اپنے رحل کی صورت بنا کربیٹھ جاؤ۔ افسردہ خاطر ہو تو کتاب میں منھ دے کر اشک فشانی کرلو، خوش ہو تو کتاب کے ساتھ خوشی بانٹ لو، کہیں جانا ہو تو بیگ میں رکھ کے ساتھ لے چلو، کتاب کبھی کوئی شکایت نہیں کرتی ہر حال میں آپ کے ساتھ خوشی خوشی آگے بڑھتی رہتی ہے اور آپ پر اپنی دولت نچھاور کرتی ررہتی ہے۔

کتاب وہ وفادار دوست ہے جو ایک طرف ہمیں ماضی کی غلطیوں سے آگاہ کراکے اُن سے سیکھنے کا موقعہ دیتی ہے تو دوسری طرف مستقبل کے خطرات سے آشنا کرانے کے ساتھ ساتھ اُن سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ فراہم کرتی ہے۔

کتاب کے متعلق انگریز دانشور جان ملٹن(John Milton: 1608 - 1674) لکھتا ہے:

“A good book is the precious life-blood of a master spirit, embalmed and treasured up on purpose to a life beyond life.”

’’ایک اچھی کتاب عظیم روح کے قیمتی خون سے تحریر ہوتی ہے جس کو محفوظ کرنے کا مقصد ایک زندگی کے بعد دوسری زندگی کو اس عظیم روح سے روشناس کرانا ہوتا ہے"۔

اسی طرح کتاب دوستی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صحافی ارنسٹ ہیمنگوے (Ernest Hemingway 1899-196) لکھتا ہے:

"There is no friend as loyal as a book.”

"کتاب سے زیادہ وفادار کوئی دوست نہیں۔"

فرانس کے انقلابی دانشور والٹیر (Voltaire 1664 - 1778 )نے تو یہاں تک کہہ دیاکہ "انسانی تاریخ میں چند وحشی و غیر مہذب قوموں کو چھوڑ کر لوگوں پر صرف کتابوں کی حکومت ہے۔" اتنا ہی نہیں ،فلسفی رالف والڈو ایمرسن (Ralph Waldo Emerson 1803 - 1882) کا کہنا ہےکہ:" اچھی کتاب بے مثال دوست ہے، جو ہمیشہ سیدھے راستے پرچلنے کی صلاح دیتا ہے"۔کارلائل کے مطابق:" اچھی کتابوں کا مجموعہ دور جدید کی سچی یونیورسٹی ہے۔"

کتابی جنون و وارفتگی سے مجھے چھٹی صدی ہجری کےمعروف حنبلی عالم امام ابن الخشابؒ کے حوالے سے "الذیل علی الطبقاۃ الحنابلہ " میں مذکور واقعہ یاد آگیا آپ بھی سن لیں، ہوا کچھ یوں کہ:

"موصوف نے ایک دن، ایک کتاب ۵۰۰ درہم میں خریدی، قیمت ادا کرنے کیلئے کوئی چیز نہ تھی لہٰذا تین دن کی مہلت طلب کی اور مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر مکان بیچنے کا اعلان کیا اور اس طرح اپنے شوق کی تکمیل کی۔" ایسے ہوتے ہیں کتاب کے دیوانے سے جو کتاب کی خاطر اپنا گھر بار لٹا دیتے ہیں اور کتاب کو اپنا مامن و مسکن بنا لیتے ہیں۔ ہمارے استاذ مولانا اسید الحق قادری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ: "اگر رات کو پاس میں کوئی کتاب نہ ہو تب بھی نیند نہیں آتی اور اگر کوئی اچھی کتاب ہو تب بھی نیند نہیں آتی"۔

خیر!اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جس سماج سے علم و تحقیق اور مطالعہ کا شوق اٹھ جائے، وہ سماج ذہنی و فکری طور پر مفلوج ہو جاتا ہے۔ علم دوست معاشرے میں علم کی قدر کی جاتی ہے اور لوگوں میں مطالعۂ کتب کا شوق بھی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ آپ زیادہ دور نہ جایئں بلکہ ایشاء ہی میں واقع ملک جاپان کی مثال لیجئے، جس کی کتاب دوستی و کتاب بینی کے متعلق مجتبیٰ حسین اپنے سفر نامہ "جاپان چلو جاپان"میں لکھتے ہیں کہ:

"پورے ایشیاء میں جاپانی سب سے زیادہ پڑھا کو قوم ہے اور دنیا بھر میں ان کے اشاعتی کاروبار کی دھا ک بیٹھی ہوئی ہے۔جہاں جائیں لوگ کتاب خریدنے اور پڑھنے میں مصروف ہوتے ہیں ۔ٹوکیو میں ایک محلہ ہے کندا جو شہنشاہ ِ جاپان کےمحل سےمتصل ہے اس میں ہر طرف کتابیں فروخت ہوتی ہیں ،کتابوں کی اتنی بڑی دکانیں ہم نے کہیں نہیں دیکھیں۔ہوٹلوں اورتفریح گاہوں میں بھی کتابوں کی فروخت کا انتظام موجود ہے۔چار پانچ سال کے کم عمر بچے بھی بڑے ذوق وشوق سے کتابیں خریدتے اور پڑھتے ہیں۔ جاپان کی آبادی تقریباً ساڑھے گیارہ کروڑ ہے اور سال بھر میں تقریباً 80 کروڑ کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔گویا ہر جاپانی سال میں ساڑھے چھ کتابیں ضرور خریدتا ہے"۔

آج بھی جو قومیں ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اُن کی کامیابی کا راز کتاب بینی و کتاب دوستی ہی ہے ، کتابیں گمشدہ تہذیب کی بازیابی کا ذریعہ ہیں، کتابیں تابناک مستقبل کی ضمانت ہیں نیز کتابیں بھولی بھٹکی قوموں کی زندگی میں روشن قندیل کا کام کرتی ہیں۔ مگر افسوس! گزشتہ چند دہائیوں میں جب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ارتقاء ہوا، دنیا ڈیجیٹلائزیشن (Digitalization) کی طرف بڑھی، سوشل میڈیا کےرجحان میں اضافہ ہوا تو انسان نے اس قندیل سے استفادہ کرنا چھوڑ دیا اور اس کےدل سے کتاب کا ذوق و شوق دن بدن کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔وہ وقت جو انسان کتابوں کی ہم نشینی میں گزارتا تھا اب فیسبک کی نذر کرنے لگا ہے، رات کی تنہائی کے وہ لمحے جو کبھی کتاب کے چہرے کو تکتے گزرتے تھے اب موبائل اسکرین کو دیکھتے گزرتے ہیں جبکہ:

کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے

بڑی حسرت سے تکتی ہیں

جو قدریں وہ سناتی تھیں

کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھے

وہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میں

جو رشتے وہ سناتی تھیں

وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں

حافظ محمد شہباز صاحب اپنے ایک مضمون میں دنیا کے ڈیجیٹلائزیشن (Digitalization) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کےارتقاء سے رو نما ہونے والے نتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:                                                               "   ڈیجیٹل انقلاب نے انسان کے دل سے احساسِ مروت کا عنصر کچل ڈالا اور وہ جدید آلات کا اسیر ہو کر رہ گیا۔ ان آلات نے جہاں انسان سے حسنِ اخلاق و احترام کا عنصر چھین لیا وہیں تسہل پسندی و تن آسانی کے بھنور میں انسان کو اپنی تہذیبی و ثقافتی میراث سے کوسوں دور کردیا جس کی مثال عصرِ حاضر میں ذوق ِ علم اور مطالعۂ کتاب سے دوری ہے"۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیجیٹلائزیشن نے انسان کو تسہل پسندی و تن آسانی کے بھنور میں لا پھینکا ہے اور آج کا انسان ہر کام بنا محنت کے کرنے کا عادی ہوتا جا رہا ہے۔ کتابیں خریدنے کا رواج بھی اب رفتہ رفتہ ختم سا ہو رہا ہے بلکہ اب بس آٹے میں نمک جتنا باقی رہ گیا ہے، اب لوگ بجائے کتاب خریدنے کے پی ڈی ایف کی رٹ لگانے کے عادی ہو چکے ہیں۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ اب اکثر و بیشتر افراد کتاب کا مطالعہ کرنے کی بجائے کتابوں کی پی ڈی ایف فائلز جمع کرنے کی ہوڑ میں لگ گئےہیں، آپ کسی بھی کتاب کا ذکر کریں ایسے احباب کا پہلا سوال " پی ڈی ایف مل سکتی ہے؟" ہی ہوتا ہے۔ حد تو تب ہوتی ہے جب نئی مطبوعہ کتاب کے اشتہار والے پوسٹ پر بھی پی ڈی ایف فائل کے مطالبات والے تبصرے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہاں! اس بات سے تو خیر کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پی ڈی ایف فائل کی بدولت بہت سی نایاب کتابین میسر آجاتی ہیں جو یقینا ڈیجیٹلائزیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ارتقاء ہی کی دَین ہے لیکن صرف کتابیں جمع کرنا، کتاب دوستی نہیں ہے، مزا تو تب ہے جب آپ کتابیں جمع بھی کریں اور اُن کے دریائے علم و حکمت سے اپنی پیاس بھی بجھائیں۔

چلتے چلتے اتنا ضرور کہوں گا کہ مطبوعہ کتاب اور ڈیجیٹل کتاب کے مطالعے کے درمیان کا فرق تو بہر صورت باقی رہے گا اور اب چونکہ کتابوں کے ورق کی جگہ کمپیوٹر اسکرین نے لے لی ہے جس کے چلتے ورق گردانی کا لطف اب کہیں گُم سا ہو گیا ہے بقول گلزار:

زباں پر ذائقہ آتا تھا جو صفحے پلٹنے کا

اب انگلی کلک کرنے سے بس اک

جھپکی گزرتی ہے

وہ سارا علم تو ملتا رہے گا آئندہ بھی

مگر وہ جو کتابوں میں ملا کرتے تھے سوکھے پھول اور

مہکے ہوئے رقعے

کتابیں مانگنے گرنے اٹھانے کے بہانے رشتے بنتے تھے

ان کا کیا ہوگا

وہ شاید اب نہیں ہوں گے!

Comments

Popular posts from this blog

اہلِ دل کی بزم اور ایک دور کھڑا مسافر

عتبات تضيء أكثر من الدروب

عربی محاورات مع ترجمہ و تعبیرات - ایک مطالعہ