میں نے لکھنا کیسے شروع کیا ؟
اُردو میں
ایک کہاوت ہے "دیر آئے، درست آئے"، ہمارا معاملہ بھی کُچھ ایسا ہی ہے۔
جب تک مدرسے میں زیرِ تعلیم رہے کبھی کسی موضوع پر لکھنا گوارہ نہیں کیا الا یہ کہ
ایک مرتبہ مقالہ نگاری کے مقابلہ میں ایک مقالہ لکھ مارا یا پھر جب جماعت سابعہ کے
سالانہ امتحان میں تفسیر کے موضوع پر لازمی طور پر ایک مقالہ لکھنے کا فرمان جاری
ہوا تو نا چار ہی لکھنا پڑا۔
اچّھا
مذکورہ سطور سے آپ یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ ہمیں لکھنے سے للہی بَیر ہے، جس بَیر کے
چلتے ہم نے کبھی کچھ نہیں لکھا، بلکہ آپ کو بتا دوں کہ ہم نے اپنی اِک عمر اپنی
خود ساختہ اُن افکار کی نذر کردی جن کو ہم نے گلے میں جھجک کا طوق تو ہاتھوں میں
الفاظ و معانی کے ذخیرہ سے نا آشنائی کی ہتھکڑی اور پاؤں میں مقالہ نگاری کے اُصول
و ضوابط سے لا علمی کی زنجیر بنا کر پہن رکھا تھا۔
ہم اپنی
سوچ کی چار دیواری میں قید اِسی احساس میں مرے جا رہے تھے کہ ہم کیا لکھیں گے؟
ہمارے قلم نے آج تک امتحان کی کاپیوں میں لکھنے کے علاوہ کیا ہی کیا ہے؟ ہم نا
لکھنے کے ہنر سے آشنا ہیں اور نا ہی اُصول و ضوابط سے بہراور، نا ہمارے پاس لفظوں
کی بازیگری کا فن ہے اور نا ہی ہمیں قرطاس کی مانگ کو خامہ کی روشنائی سے سجانا
آتا ہے، نا ہمارے پاس غالب و میر سی شوخی ہے اور نا انیس و دبیر کا سوز، نا ہم
جالب و شورش سے دلیر ہیں اور نا فراز و فیض جیسے آشفتہ سر۔
غرض کہ نا
ہم منٹو کی سادگی ہی کا ہنر دکھا سکتے ہیں اور نا قرة العين حيدر و ابنِ صفی کی
طرح الفاظ و معانی کا جال بُن سکتے ہیں۔
اچّھا! اب
اِن سب افکار کو آپ ہمارے ذہن کا خبط کہہ لیجئے یا اعتماد کی کمی:
سرِ تسلیم
خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے۔
خیر یہ
سلسلہ یونہی چلتا رہا اور ۲۰۱۵ء میں ہم مدرسہ عالیہ قادریہ سے فارغ ہوگئے۔ لیکن
نہ لکھنے کی سنت پر ہنوز عمل جاری تھا اور مواظبت کا عالم یہ تھا کہ مجال ہے جو
ایک لمحے کے لئے بھی کُچھ لکھنے کا سوچ کر اپنی برسوں کی تپسیا بھنگ کرلیں؟ نہ
میاں نہ! یہ گناہ ہم سے نہ ہو پائے گا۔ قِصّہ مختصر آپ یہ سمجھ لیں جیسے حضرتِ واعظ
کو رندوں سے دوری میں بھلائی نظر آتی ہے اُسی طرح ہمیں کاغذ و قلم سے دوری میں لطف
آتا تھا۔
وقت گزرتا
رہا اور ۲۰۱۶ء میں ہم نے ممبئی یونیورسٹی کے شعبۂ عربی میں ایم .اے کرنے کے
لئے داخلہ لے لیا اور جب پہلے سیمسٹر کے امتحان کا وقت آیا تب ہم پر یہ ہوش رُبا
انکشاف ہوا کہ صاحب ! ہر سیمسٹر میں امتحان سے پہلے نصاب میں شامل چاروں مضامین پر
ایک ایک اسائنمنٹ (مقالہ) لکھنا ہوگا مزید یہ کہ آخری سیمسٹر میں ایک تحقیقی مقالہ
لکھنا بھی لازمی ہے۔
یہ سن کر
ہمیں مرحوم غالب یاد آئے، وہ اُنہوں نے کہا ہے نا:
کہوں کس
سے میں کہ کیا ہے شبِ غم بری بلا ہے
مجھے کیا
بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
ہماری
حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی کہ صرف اس بار لکھ کر کام چل جاتا تو کتنا اچھا رہتا ؟
خیر! مرتا
کیا نہ کرتا۔؟ لہٰذا:
"ناچار پڑا
،اِس راہ جانا"
الحمد للہ
چاروں مقالے عربی زبان میں بحسن و خوبی لکھ گئے اور جانے انجانے میں ہی سہی ہم
اپنی تپسیا بھنگ کر گئے اور اب جب تپسیا بھنگ ہو ہی گئی تھی تو کیوں نا اب مزید
کوئی اور پرتگیا نہ لینے کی، پرتگیا لی جائے ؟
وہ
انگریزی کی ایک کہاوت ہے نا "A thousand miles journey starts with
a small step" مطلب یہ کہ ایک ہزار میل لمبا سفر بھی ایک قدم بڑھانے سے ہی شروع ہوتا ہے۔
اِسی طرح ایک اور مشہور مقولہ "It is never too late to do" جس کو
ہماری اُردو میں کہتے ہیں، "جب جاگے، تبھی
سویرا۔
مطلب یہ
کہ اگر ہم اِسی بات کا رونا روتے رہیں کہ ہم کیسے لکھیں؟ کیا لکھیں؟ سب کیا کہیں
گے؟ تنقید و جرح کیسے برداشت کریں گے؟ یا پھر اِس احساس کا شکار ہوگئے کہ فلاں
صاحب تو بڑا شاندار لکھتے ہیں وہ میرا مضمون پڑھیں گے تو میرے بارے میں کیا سوچیں
گے وغیرہ وغیرہ تو پھر زندگی میں کچھ کر ہی نہیں پائیں گے اور پھر جب وقت ہاتھ سے
نکل جائے گا تو سوائے کف افسوس مَلنے کے کوئی اور چارہ نہیں بچے گا، کیونکہ جو لوگ
آج ادیب و شاعر، ناقد و محقق بنے ہوئے ہیں وہ لوگ بھی کبھی میری، آپ کی طرح مبتدی
ہی تھے نا؟ اُنہوں نے بھی اسکیچ سے بنانا شروع کیا تھا اور آج مسلسل کوشش کے ذریعے
اپنا ایک مقام بنایا ہے۔
شاید اِسی
سوچ نے ۲۰۱۸ کے آخر میں مجھے بھی حوصلہ دیا اور کُچھ سیکھنے کی غرض سے میں نے بھی
ہندوستان کے موجودہ حالات پر عربی میں ایک چھوٹا سا مضمون بعنوان (مرحباً بالغابة
الديمقراطية) "جمہوری جنگل میں آپ کا خیر مقدم ہے" لکھ مارا کہ دیکھتے
ہیں کیا فیڈ بیک ملتا ہے؟ خیر، اہلِ علم احباب نے کافی سراہا اور ہمت افزائی کی۔
لہٰذا
وہاں سے میں نے گاہے بگاہے متفرق و مختلف موضوعات پر لکھنا شروع کیا اور ساتھ ساتھ
اپنی غلطیوں سے سیکھتا بھی رہا۔
جو مضامین
میں نے اب تک لکھے ہیں اُن میں عربی سے ترجمہ کردہ افسانے/کہانیاں، استاذ محترم
مولانا اُسید الحق قادری علیہ الرحمہ کے ایک دو مضامین کا انگریزی ترجمہ، کُچھ
عربی کے مختصر مضامین اور کہانیاں، قسط وار سفرنامہ، سیرت کی ایک کتاب کے کچھ
حصّے کا سلسلے وار خلاصہ نیز بعض بہاریہ اور مزاحیہ مضامین شامل ہیں اور الحمد للہ
یہ سلسلہ ۲۰۱۸ء كى رخصتى و ۲۰۱۹ء كى آمد سے شروع ہو کر تا دمِ تحریر جاری ہے۔ والله
هو الموفق۔
مذکورہ
باتوں کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ میں مضمون نگاری یا جس طرح کا بھی میں لکھتا
ہوں، اُس میں بہت ماہر ہوں لیکن پھر بھی اتنا تو کہہ سکتا ہوں کہ اب میں لکھنے سے
ڈرتا نہیں ہوں جو کہ شاید ایک لکھاری بننے کی سب سے پہلے سیڑھی ہوتی ہے۔
على الله توكلت وهو المستعان۔

Comments
Post a Comment