میرے استاذ: شیخ صاحب
میرے استاذ: شیخ صاحب کبھی کبھی دل میں رہ رہ کے ایک کسک سی اٹھتی ہے مانو کسی کی یاد کے جھونکے اپنی پوری توانائی کے ساتھ دل کے دروازے کو توڑنے پر آمادہ ہوں اور یہ ناتواں دل آنکھوں میں پربا ہونے والے سیلاب کے خوف سے خود کو طاقتور ظاہر کرنے کی ناکام کوشش میں لگا رہتا ہے لیکن طوفان کے آگے کون ٹک سکا ہے؟ آخر کار اُس پریوش کی یادوں کے جھونکے سرررر کرتے ہوئے دل کے سارے دروازے توڑ کر آنکھوں کے راستے رخسار چُوم لیتے ہیں۔ اُس کی یاد میں بہنے والے آنسوؤں سے جب آنکھ پاک ہوجاتی ہے تو ماضی کے جھروکہ سے ایک ایک کرکے ساری مضمحل یادیں تصویر بن کر سامنے آن کھڑی ہوتی ہیں۔ سمجھ نہیں آرہا کہاں سے شروع کروں؟ ذہن سُن سا ہوگیا ہے، اُنگلیاں ارتعاش زدہ آگے لکھنے سے قاصر سوالیہ نظروں سے کیبورڈ کو تکے جا رہی ہیں۔ آہ! یہ کمبخت دل بھی نا عجیب بلا ہے کبھی اتنا آہستہ دھڑکتا ہے کہ جیسے رُک ہی جائے گا اور کبھی ایسے دھک دھک کرے ہے کہ بس ابھی سینہ چیر کر باہر آ جائے گا لیکن آج نا تو یہ تیز ہی دھڑک رہا ہے اور نا آہستہ بلکہ کمبخت یادوں کی بارات لے کر مُرغ بسمل کا تماشہ دیکھنے پر آمادہ ہے۔ ...