Posts

Showing posts from September, 2019

تین یار - ممبئی سے بدایوں - ایک سفر - آخری قسط

تین یار - ممبئی سے بدایوں - ایک سفر تحریر : احمد سعید قادری بدایونی آخری قسط خانقاہ قادریہ مجیدیہ اور خانوادۂ عثمانیہ بدایوں شریف نے اسلام و سنیت و انسانیت کی جو خدمات انجام دی ہیں اُنکا حصر اِس مختصر سے سفر نامہ میں کرنا نا ممکن ہے آپ بس اتنا سمجھ لیجئے کہ جب جب قوم و ملّت  کو کوئی ملی،سماجی،مسلکی و مشربی مسئلہ پیش آیا ہے خانقاہ قادریہ اور خانوادۂ عثمانیہ کے افراد ہر محاذ کی صف اول میں بحثیت قائد الجيش کھڑے رہے ہیں، چاہے وہ ۱۸۵۱ء کا ناموسِ رسالت پر حملہ ہو یا پھر ۱۸۵۷ء کا غدر۔۔۔ ایک میں علامہ فضلِ رسول عثمانى بدایونی "سیف الجبار" لئے کھڑے تھے تو دوسرے میں مولانا فیض احمد عثمانى بدایونی سیف الاستقلال لئے کھڑے نظر آئیں گے۔ ۱۵ ستمبر بروز اتوار  -  حسبِ روایت و معمول، صبح ۹ بجے حویلی شاہ عين الحق قدس سره العزيز (رہائش گاہ حضور صاحبِ سجّادہ - اطال الله ظلال فضلہ علينا) سے آثارِ مبارکہ کا جلوس درگاہ قادری روانہ ہوا اور جلوس کے درگاہ پہونچنے کے ساتھ ہی خانوادۂ عثمانیہ میں اس روحانی سلسلہ کے بانی و مورث اعلیٰ افضل العبید،قدوۃ الاصفياء حضور شاہ عین الحق عبد المجيد قادرى...

تین یار - ممبئی سے بدايوں - ایک سفر - قسط ۲

تین یار - ممبئی سے بدايوں - ایک سفر تحریر : احمد سعید قادری بدایونی قسط ۲ ٹھیک ۴ بجے باندرا ٹرمینس کے پلیٹ فارم نمبر دو پر غریب رتھ ایکسپریس لگی سب ٹرین میں داخل ہوئے اور اپنی اپنی جگہ براجمان ہوگئے۔۔  توصیف خان صاحب چونکہ آخری وقت میں مسلمان ہوئے تھے اس لئے ایک دن پہلے ہی اُن کا ویٹنگ ٹکٹ نکالا تھا اور باوجود اس کے کہ ہمیں اُسکے کنفرم ہونے کی بالکل اُمید نہیں تھی وہ اتفاق سے کنفرم تو ہو گیا تھا لیکن جس ڈبے میں محترم کی سیٹ کنفرم ہوئی تھی ہمارے ڈبے سے اُس ڈبے کی مسافت طے کرنا امبرناتھ سے باندرا ٹرمینس جانے سے کم نہیں تھا۔ لہٰذا طے یہ پایا کہ فی الحال تو یہی بیٹھتے ہیں جب سونے کا وقت ہوگا تب دیکھا جائیگا ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ میری نظر سیٹ کے کنارے رکھے تیز گلابی رنگ کے شولڈر بیگ پر گئی جو اپنی ہیئتِ قضائیہ کے حساب سے کسی خاتون کا لگ رہا تھا اب چونکہ وہ ہماری سیٹ پر رکھا تھا اور آس پاس کوئی خاتون بھی نہیں تھی اس لئے میں نے سوالیہ نظروں سے ضمیر صاحب کو دیکھا جس کا مقصود سمجھتے ہوئے انہوں نے توصیف صاحب کی طرف اتنی تیزی سے اشارہ کیا جیسے کوئی بہت بڑا گناہ سرزد ہوگیا...

تین یار - ممبئی سے بدايوں - ایک سفر - قسط ۱

تین یار - ممبئی سے بدايوں - ایک سفر تحریر : احمد سعید قادری بدایونی قسط ١ ۱۲ ستمبر بروز جمعرات باندرا ٹرمینس سے ہماری ٹرین تھی جس سے ہمیں متھرا تک جانا تھا اور پھر وہاں سے لوکل ٹرین کے ذریعے کاسگانج اور پھر بذریعہ بس بدایوں لیکن اس س پہلے کیا کیا ہوا ؟ آئیے دیکھتے ہیں۔۔۔ تقریباً دوپہر ایک بجے میں اور ابّا گھر سے امبرناتھ اسٹیشن کے لئے نکلے آٹو رکشا روکا اور سوار ہو کر اسٹیشن کی طرف روانہ ہوگئے ابھی بس آٹو آگے بڑھا ہی تھا کہ مولانا ضمیر صاحب کا نام فون کی اسکرین پر نمودار ہوا کال ریسیو کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت والا، مولانا توصیف صاحب کے ساتھ اسٹیشن پہنچ چکے ہیں۔ ضمیر صاحب کے پہلے سے اسٹیشن پر موجود ہونے کی خبر ہمارے لئےکسی انعام ملنے سے کم نہ تھی اور راز کی بات بتا دوں اس خوشخبری کے محرک بھی ہم ہی تھے کیونکہ ہم ہی نے حضرت کو ڈراتے ہوئے جلدی نکلنے کو کہا تھا کیونکہ ہمیں اُنکی سست چال کا پورا اندازہ تھا کہ اگر انکو آرام سے نکلنے کو بولا تو پھر ٹرین ملنے کا اللہ ہی حافظ ہے۔۔۔۔۔  خیر ہم نے اس ڈر سے کہ کہیں ہماری خوشی کو نظر نہ لگ جائے موصوف پر خوشی کا اظہار نہیں ہونے دی...

میرے کشمیر سے آوازِ بکا آتی ہے

"ارے ہم تو سکون سے ہیں نا ؟ ہمیں تھوڑی نہ کوئی تکلیف ہے، یہ اُن لوگوں کا مسئلہ ہے وہ جانیں" شاید یہی سوچ ہمیں کشمیر کے مسئلے پر چپی سادھنے پر مجبور کئے ہوئے ہے ورنہ بیس/ اکیس کروڑ مسلمانوں کی آبادی والے ملک ہندوستان میں اقلیتی سماج پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور اپنے آپ کو مسلم امت کا قائد و رہنما کہنے والے سینکڑوں ملی و سماجی تنظیموں کے سربراہی کا دعویٰ کرتے نہ تھکنے والے اصحابِ اعلیٰ دستار نہ تو کھل کے سامنے آرہے ہیں اور نہ ہی کُچھ بولتے بن پا رہے اور بعض تو ایسے بھی ہیں جو اس فیصلے کو محض سیاسی مسئلہ کہ کے اپنا پلڑا جھاڑے بیٹھے ہیں اگر سیاسی فیصلوں کے زریعے ہمارے ،آپ کے گھر والوں کو بھی اسی قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار ہونا پڑتا تب بھی کیا آپکا یہی ردِ عمل ہوتا ؟ کیا صرف آپ کا خون خون ہیں دوسرے کا پانی؟آپ کو جینے کے مکمل آزادی چاہئے دوسرے کے لیے قید ہی آزادی ہے؟ کیا کسی شخص کو یہ کہہ کر قید میں ڈال دینا کہ ہم اسکی زندگی بچانے کے لیے قید کر رہے ہیں جسٹیفائی کرنے لائق ہے ؟ کیا بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرکے آپ کسی کی حفاظت کر سکتے ہیں؟ یہ کیسا حفاظتی انتظا...

یاد آ رہا ہے پھر وہی گزرا ہوا زمانہ

ہم انسان بھی نا عجیب مخلوق ہیں جب نعمت پاس ہوتی ہے تو اس سے پیچھا چھڑانے کی تدبیریں کرتے ہیں اور جب وہ چھن جاتی ہے تو اسکے حصول کی پلاننگ یا اسکے زوال پر کف افسوس ملتے ہیں۔ اب دیکھئے نا جب مدرسے میں طالب علمی کے دور سے گزر رہے تھے تو ہر وقت جلد از جلد تعلیم مکمل کرکے باہر نکلنے کی تمنا کرتے تھے جو تمنا کم اور اساتذہ سے خلاصى کی آرزو زیادہ تھی اور آج جب تعلیم مکمل کئے کم و بیش پانچ برس بیت گئے تو وہی مدرسہ،اساتذہ اور ساتھیوں سے ملنے کی خواہش دامن گیر رہتی ہے۔ جب طالب علم تھے تو مقابلوں سے بچنے کے کوشش کرتے تھے اور آج جب ایسے کسی پروگرام میں بحثیت پرتیسپنٹ شامل ہونے کے مجاز نہیں تو جب کبھی کسی کلچرل پروگرام،مسابقہ کے زریعے طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا اور اُن میں خود اعتمای بڑھانے کا کام ہوتا ہے تو دل کرتا ہے کاش ہم بھی اس کا حصہ بنکر اپنے اعتماد کو  جلا اور زنگ آلود صلاحیت کو صیقل کر پاتے۔ ایک احساس مانو کھائے جا رہا ہو کہ آخر کیوں ہم اُس زریں دور سے باہر نکل آئے ؟ کیوں اُس وقت کو ہمیشہ کے لئے نہیں روکے رکھا ؟ وہ صبح جو کبھی شروع تو ناگوار احساس سے ہوتی تھی کہ پھر وہی م...