تین یار - ممبئی سے بدایوں - ایک سفر - آخری قسط
تین یار - ممبئی سے بدایوں - ایک سفر تحریر : احمد سعید قادری بدایونی آخری قسط خانقاہ قادریہ مجیدیہ اور خانوادۂ عثمانیہ بدایوں شریف نے اسلام و سنیت و انسانیت کی جو خدمات انجام دی ہیں اُنکا حصر اِس مختصر سے سفر نامہ میں کرنا نا ممکن ہے آپ بس اتنا سمجھ لیجئے کہ جب جب قوم و ملّت کو کوئی ملی،سماجی،مسلکی و مشربی مسئلہ پیش آیا ہے خانقاہ قادریہ اور خانوادۂ عثمانیہ کے افراد ہر محاذ کی صف اول میں بحثیت قائد الجيش کھڑے رہے ہیں، چاہے وہ ۱۸۵۱ء کا ناموسِ رسالت پر حملہ ہو یا پھر ۱۸۵۷ء کا غدر۔۔۔ ایک میں علامہ فضلِ رسول عثمانى بدایونی "سیف الجبار" لئے کھڑے تھے تو دوسرے میں مولانا فیض احمد عثمانى بدایونی سیف الاستقلال لئے کھڑے نظر آئیں گے۔ ۱۵ ستمبر بروز اتوار - حسبِ روایت و معمول، صبح ۹ بجے حویلی شاہ عين الحق قدس سره العزيز (رہائش گاہ حضور صاحبِ سجّادہ - اطال الله ظلال فضلہ علينا) سے آثارِ مبارکہ کا جلوس درگاہ قادری روانہ ہوا اور جلوس کے درگاہ پہونچنے کے ساتھ ہی خانوادۂ عثمانیہ میں اس روحانی سلسلہ کے بانی و مورث اعلیٰ افضل العبید،قدوۃ الاصفياء حضور شاہ عین الحق عبد المجيد قادرى...