تین یار - ممبئی سے بدايوں - ایک سفر - قسط ۲

تین یار - ممبئی سے بدايوں - ایک سفر
تحریر : احمد سعید قادری بدایونی
قسط ۲
ٹھیک ۴ بجے باندرا ٹرمینس کے پلیٹ فارم نمبر دو پر غریب رتھ ایکسپریس لگی سب ٹرین میں داخل ہوئے اور اپنی اپنی جگہ براجمان ہوگئے۔۔ 
توصیف خان صاحب چونکہ آخری وقت میں مسلمان ہوئے تھے اس لئے ایک دن پہلے ہی اُن کا ویٹنگ ٹکٹ نکالا تھا اور باوجود اس کے کہ ہمیں اُسکے کنفرم ہونے کی بالکل اُمید نہیں تھی وہ اتفاق سے کنفرم تو ہو گیا تھا لیکن جس ڈبے میں محترم کی سیٹ کنفرم ہوئی تھی ہمارے ڈبے سے اُس ڈبے کی مسافت طے کرنا امبرناتھ سے باندرا ٹرمینس جانے سے کم نہیں تھا۔
لہٰذا طے یہ پایا کہ فی الحال تو یہی بیٹھتے ہیں جب سونے کا وقت ہوگا تب دیکھا جائیگا ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ میری نظر سیٹ کے کنارے رکھے تیز گلابی رنگ کے شولڈر بیگ پر گئی جو اپنی ہیئتِ قضائیہ کے حساب سے کسی خاتون کا لگ رہا تھا اب چونکہ وہ ہماری سیٹ پر رکھا تھا اور آس پاس کوئی خاتون بھی نہیں تھی اس لئے میں نے سوالیہ نظروں سے ضمیر صاحب کو دیکھا جس کا مقصود سمجھتے ہوئے انہوں نے توصیف صاحب کی طرف اتنی تیزی سے اشارہ کیا جیسے کوئی بہت بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہو جس سے فوری توبہ/برأت کا اظہار کرنا لازمی ہو۔۔۔
میں نے خان صاحب سے پوچھا کیوں جناب اس بیگ کا کیا راز ہے ؟ آپ اور گلابی رنگ ؟ سب خیریت تو ہے ؟
یہ سوال مانو خان صاحب کے لئے گھڑوں بھر پانی گرنے کی طرح ثابت ہوا، نظریں چراتے ہوئے گویا ہوئے، ارے بھائی وہ میرا نہیں ہے، حیدرآباد کے ایک ساتھی کا ہے میرا بیگ بڑا تھا اس لئے اُسکا لے آیا۔۔
گو کہ ہمیں اُن کی بات پر یقین تو نہیں آیا پھر بھی حضرت کی خجالت کم کرنے کے لئے سر ہلا دیا یہ سوچ کر۔۔

جا چھوڑ دیا حافظِ قرآن سمجھ کر۔۔۔
جب تھوڑا سکون کا ماحول بنا تو میں نے سیلفی لینے کا شوشہ چھوڑا جس پر ضمیر صاحب نے تو فوراً لبّیک کہہ دیا جیسے بس میرے کہنے کا ہی انتظار کر رہے ہوں مگر حضرت توصیف قدرے پرہیز کرتے دکھے اب یہ اُنکی پرہیزگاری تھی یا اس کے پیچھے کوئی اور مصلحت کار فرما تھی اسکی تحقیق جاری ہے جو کب تک جاری رہے گی یہ تو معلوم نہیں مگر اس وقت ہم نے خان صاحب کو سیلفی کے لئے راضی کرلیا۔
۴:۳۵ منٹ پر ٹرین باندرا ٹرمینس سے نکلی اور سرپٹ دوڑنے لگی۔ میں، ضمیر اور خان صاحب سائڈ والی سیٹ پر بیٹھ کر گپے مار رہے تھے کہ اتنے میں سموسہ بیچنے والا ڈبے میں آیا، اس کو دیکھ کر میں نے سموسے کھانے کی پیشکش رکھی۔ صاحب، سموسے والے کو آواز دی گئی دو پلٹ سموسے لئے گئے (میرے اور توصیف کے لئے، ضمیر صاحب ابھی تک کھانے سے منع کررہے ہیں اس نیت سے کہ مجھ سے یا توصیف سے لے لیں گے) لیکن جب میں نے انکو دینے سے منع کردیا تو ایک پلیٹ  اُنہوں نے بھی لئے جس کی سزا پانے کا شرف سارے سمونسوں کے پیسے ادا کرنے کی شکل میں حاصل ہوا۔
سموسے کھا کر ہٹے تو پانی اور کولڈ ڈرنک والے صاحب نمودار ہوئے ہم نے جھٹ سے روکا اور ایک عدد اسپرائٹ لے لی جس کی قیمت ادا کرنے کا شرف بھی محترم المقام و کثیر المال حضرت ضمیر صاحب کو حاصل ہوا۔۔ولله الحمد على ذلك..
جب خورد و نوش سے فارغ ہوئے تو حضرت توصیف المعروف بہ خان صاحب قبلہ نے اپنی گرجدار آواز میں عربی زبان بول کر ہماری اور ضمیر کی سماع خراشی کرنا شروع کردی جس سے بچنے کے لئے ناچار ہی ہمیں بیچارے ضمیر کو بلی کا بکرا بناتے ہوئے عربی بلوانا پڑی، جس کا فائدہ یہ ہوا کہ خان صاحب خاموش ہوگئے اور ضمیر کی اصلاح کرنے میں لگ گئے اور ہم اُنکی گرجدار آواز سے محفوظ ہوگئے.
رات کو کھانا کھا کر میں تو اپنی سیٹ پر سونے چلا گیا لیکن توصیف اور ضمیر ایک دوسرے کو، دوسرے ڈبے میں بھیجنے کے در پے تھے لیکن نہ تو توصیف جانے کو راضی تھے اور نہ ہی ضمیر صاحب مان رہے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب دونوں حضرات لیٹے "تو پائے توصیف بدستِ ضمیر و پائے ضمیر بدستِ توصیف" مگر مجال جو دونوں میں سے کوئی بھی اٹھ کر چلا جائے نتیجۃً حضرت ضمیر کو کئی مرتبہ ٹرین کی فرش درازی کا شرف حاصل ہوا۔۔

صبح کے سات بج رہے تھے اور ہم لوگ متھرا پہنچ چکے تھے توصیف صاحب نے پہلی مرتبہ سرزمینِ متھرا پر قدم رنجہ فرمائے تھے اور یہاں کی متعفن فضا سے فیضیاب بھی پہلی بار ہی ہو رہے تھے۔
متھرا اسٹیشن پر ہمیں صابر بھی جوائن کرنے والا تھا چونکہ ہماری ٹرین پہلے آئی تھی لہٰذا ٹکٹس وغیرہ نکال کر ہم سات نمبر پلٹ فارم پر آگئے جہاں سے کاسگنج کی لوکل پکڑنی تھی پہنچ کر کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ صابر کی کال آئی کہ وہ ٹرین سے اُتر گیا ہے اور لوکل پلیٹ فارم کی طرف آرہا ہے میں نے اوکے کہا اور فون کاٹ دیا اور باقی لوگوں کو بتانے لگا ابھی میری بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ خان صاحب اسٹیشن کے گیٹ کے طرف اتنی تیزی سے دوڑے مانو وہ کوئی لوہے کی چیز ہوں اور گیٹ کے اُس طرف کوئی مقناطیس انکو کھینچ رہا ہو (جو شاید صابر تھے)
اِدھر خان صاحب صابر کو لینے کشاں کشاں گیٹ کی طرف گئے اور اُدھر صابر دوسری طرف سے ہمارے پاس آگئے۔
ہمارا ارادہ تو یہ تھا کہ ذرا حضرت کو بھٹکنے دیں پھر کال کریں گے لیکن کمبخت ٹرین کا وقت ہو گیا تھا اس لئے بھاری دل سے کال کرکے انکو صابر کی آمد کا مژدۂ جاں فزا سنادیا۔
کاسگنج جانے والی لوکل آرہی تھی اور بھیڑ بھی خوب تھی تو مشترکہ فیصلہ یہ ہوا کہ کوئی دو لوگ ٹرین میں چڑ کر سیٹ پر قبضہ کرلیں گے اور باقی لوگ آرام سے چھڑیں گے اس عظیم کام کی ذمداری حضرت توصیف اور ضمیر نے اپنے مضبوط کندھوں پر لینا بخوشی قبول کرلیا۔
ٹرین آئی اور ضمیر صاحب خلافِ عادت بہت تیزی سے ٹرین میں چڑ گئے اور ہم ایمرجنسی ونڈوں سے اُن کو سامان دینے لگے تاکہ حضرتِ والا سامان کو سیٹ پر رکھ کے جگہ پر قبضہ جما لیں لیکن قربان جایئے ضمیر صاحب کی حکمتِ عملی  پر کہ حضرت نے اس بات کا پورا خیال رکھا کہ کوئی بھی بیگ اِدھر اُدھر نہ رہے بلکہ ہر بیگ کو اس کا حق بیگز کے لیئے بنی ریگز پر ملے، بھلے سے ہم لوگوں کو کھڑے ہو کر جانا پڑے لہٰذا موصوف نے سارا سامان نہایت تزک و احتشام کے ساتھ سیٹ کردیا جیسے سامان نہیں رکھ رہے ہوں بلکہ کسی درگاہ کی مجاوری کا شرف حاصل کر رہے ہوں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سامان تو سارا سیٹ ہوگیا لیکن جگہ ہاتھ سے جا چکی تھی اور اب سوائے اوپر بیٹھنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا اس لئے بدلِ نخواستہ اوپر چڑ کر بیٹھ گئے اور تشکّر بھری نگاہوں سے سراپا سپاس گزار بن کے ضمیر صاحب کو دیکھتے رہے اور اُن کو مبارکباد پیش کرتے رہے اور یہ کہہ کہہ کر حوصلہ افزائی کرتے رہے،

کارے کہ تو کردی اصحابِ چنیں می کنند۔۔
كاسگنج پہنچ کر ہم بس اسٹینڈ گئے اور وہاں سے بذریعہ بس بدایوں اور تقریباً دو بجے مدرسہ میں داخل ہوئے جمعہ کی نماز کا وقت ہو رہا تھا اسلئے جلدی سے سامان کو نصیر کے ذریعہ منتخب کردہ کمرے میں رکھا اور نماز ادا کرنے چلے گئے۔۔
نماز کے بعد کھانا کھایا اور سب سے ملاقاتوں کا دور شروع ہوا۔
اگلے دن بروز سنیچرصبح دس بجے نو تعمیر شدہ گیٹ "بابِ اُسید" کی نقاب کشائی ہونی تھی جس کے لئے پورے گیٹ کو گہرے سبز رنگ کے پردے سے ڈھکا گیا تھا مانو نئی نویلی دلہن گھونگھٹ لئے بیٹھی ہو جس کے دیدار کے سب مشتاق ہوں۔
تقریباً دس بجے حضور رفیقِ ملت تشریف لائے اور اپنے مبارک ہاتھوں سے گیٹ کی رونمائی کی۔
ابھی پردہ ہٹا ہی تھا کہ فضا نعرہائے تکبیر و رسالت سے گونج اٹھی۔
زرد رنگ کا ۲۵ فیٹ بلند دروازہ سب کو دعوتِ دیدار دے رہا تھا اور ایک ایسی چمک و روشنی اس سے پھوٹ رہی تھی جس کے ڈر سے حضرت شمس جو کل اپنی پوری تمازت و تیزی کے ساتھ چمک رہے تھے آج بادلوں کے پیچھے دبکے بیٹھے تھے کہ کہیں "بابِ اُسید" سے نکلنے والی روشنی سے اُنکی آنکھیں خیرہ نہ ہو جائیں۔۔۔؟

جاری ہے۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

اہلِ دل کی بزم اور ایک دور کھڑا مسافر

عتبات تضيء أكثر من الدروب

عربی محاورات مع ترجمہ و تعبیرات - ایک مطالعہ