یاد آ رہا ہے پھر وہی گزرا ہوا زمانہ
ہم انسان بھی نا عجیب مخلوق ہیں جب نعمت پاس ہوتی ہے تو اس سے پیچھا چھڑانے کی تدبیریں کرتے ہیں اور جب وہ چھن جاتی ہے تو اسکے حصول کی پلاننگ یا اسکے زوال پر کف افسوس ملتے ہیں۔
اب دیکھئے نا جب مدرسے میں طالب علمی کے دور سے گزر رہے تھے تو ہر وقت جلد از جلد تعلیم مکمل کرکے باہر نکلنے کی تمنا کرتے تھے جو تمنا کم اور اساتذہ سے خلاصى کی آرزو زیادہ تھی اور آج جب تعلیم مکمل کئے کم و بیش پانچ برس بیت گئے تو وہی مدرسہ،اساتذہ اور ساتھیوں سے ملنے کی خواہش دامن گیر رہتی ہے۔ جب طالب علم تھے تو مقابلوں سے بچنے کے کوشش کرتے تھے اور آج جب ایسے کسی پروگرام میں بحثیت پرتیسپنٹ شامل ہونے کے مجاز نہیں تو جب کبھی کسی کلچرل پروگرام،مسابقہ کے زریعے طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا اور اُن میں خود اعتمای بڑھانے کا کام ہوتا ہے تو دل کرتا ہے کاش ہم بھی اس کا حصہ بنکر اپنے اعتماد کو جلا اور زنگ آلود صلاحیت کو صیقل کر پاتے۔ ایک احساس مانو کھائے جا رہا ہو کہ آخر کیوں ہم اُس زریں دور سے باہر نکل آئے ؟ کیوں اُس وقت کو ہمیشہ کے لئے نہیں روکے رکھا ؟
وہ صبح جو کبھی شروع تو ناگوار احساس سے ہوتی تھی کہ پھر وہی مدرسہ وہی کتابیں وہی سب باتیں ہونگی کچھ نیا نہیں ہوگا آج وہی صبح صبح سینے سے کتاب لگائے مدرسے جانا یاد آتا ہے۔
وہ جو کبھی دیر ہوجانے پر چپکے سے چھپ چھپا کر کلاس میں پہنچنے کے بعد بھی ڈرتے رہتے تھے نا کہ کہیں مولوی صاحب نے دیکھ نہ لیا ہو اور صبح صبح عزت افزائی ہوجائے۔
آپ کو یاد ہے نا؟
کیا حسین دور تھا وہ جس میں نہ کوئی فکر دامن گیر تھی نا کوئی پریشانی ستاتی تھی ہر وقت بس عیش و نشاط کی محفل آراستہ رہتی تھی جس میں یارو کی ہنسی دل لگی کی باتیں بھی ہوا کرتی تھی اور ایک دوسرے پر جملے کس کر زچ کرنے کا لطف بھی اپنے بامِ عروج پر ہوتا تھا۔ انوکھا دور تھا وہ جس کی سختیوں میں بھی خوش ہونے کے موقعے تلاش کرلیتے تھے اور آج زندگی کی دوڑ دھوپ نے کچھ ایسا چار طرفہ گھیرا ہے کہ نہ تو تصورِ جاناں ہی آتا ہے اور نہ ہی تصویر جاناں میسر ہے۔
فیض صاحب نے صحیح ہی کہا ہے،
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تُجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
احمد سعید قادری بدایونی
بروز اتوار، ۸ ستمبر ۲۰۱۹
Comments
Post a Comment