میرے کشمیر سے آوازِ بکا آتی ہے
"ارے ہم تو سکون سے ہیں نا ؟
ہمیں تھوڑی نہ کوئی تکلیف ہے، یہ اُن لوگوں کا مسئلہ ہے وہ جانیں" شاید یہی سوچ ہمیں کشمیر کے مسئلے پر چپی سادھنے پر مجبور کئے ہوئے ہے ورنہ بیس/ اکیس کروڑ مسلمانوں کی آبادی والے ملک ہندوستان میں اقلیتی سماج پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور اپنے آپ کو مسلم امت کا قائد و رہنما کہنے والے سینکڑوں ملی و سماجی تنظیموں کے سربراہی کا دعویٰ کرتے نہ تھکنے والے اصحابِ اعلیٰ دستار نہ تو کھل کے سامنے آرہے ہیں اور نہ ہی کُچھ بولتے بن پا رہے اور بعض تو ایسے بھی ہیں جو اس فیصلے کو محض سیاسی مسئلہ کہ کے اپنا پلڑا جھاڑے بیٹھے ہیں اگر سیاسی فیصلوں کے زریعے ہمارے ،آپ کے گھر والوں کو بھی اسی قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار ہونا پڑتا تب بھی کیا آپکا یہی ردِ عمل ہوتا ؟ کیا صرف آپ کا خون خون ہیں دوسرے کا پانی؟آپ کو جینے کے مکمل آزادی چاہئے دوسرے کے لیے قید ہی آزادی ہے؟ کیا کسی شخص کو یہ کہہ کر قید میں ڈال دینا کہ ہم اسکی زندگی بچانے کے لیے قید کر رہے ہیں جسٹیفائی کرنے لائق ہے ؟ کیا بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرکے آپ کسی کی حفاظت کر سکتے ہیں؟ یہ کیسا حفاظتی انتظام ہے جو مرنے والوں کو دفنانے کا حق بھی چھین لیتا ہے؟ معصوم بچوں کے آہ و بکا سے آپ کا کلیجہ کیسے نہیں پسیجتا؟ تڑپتے ہوئے بیمار کی تیمارداری تو درکنار کیا اُس کو دوا دینا بھی آپکے لیے خطرہ بن گیا ہے؟ کیا صرف کشمیر آپکا ہے وہاں بسنے والے لوگوں سے آپکا کوئی تعلق نہیں؟ آخر کیوں۔۔۔؟
یہ سب کوئی نیا تو نہیں ہے اس نیلگوں آسمان اور اس زمین نے تاریخ کے مختلف ادوار میں دیکھا ہے اور جانا ہے کہ کون قوم کا حقیقی ہمدر و غمگسار ہے اور کون اپنے مفاد کے حصول کے لیے قوم کا سودا کرنے والا ہے لیکن حد تو تب ہوتی ہے جب ایسے گرگٹ کی فطرت کے حامل لوگ قوم کے نوجوانوں کو حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس دیکر خود چور دروازے سے فرار ہو جاتے ہیں۔۔
خیر چھوڑیئے یہ سب تو ہوتا رہتا ہے، آپ یہ بتائیں تعزیہ داری کرنا کیسا ہے۔۔؟
احمد سعید بدايونى
بروز پیر، ٢ ستمبر ۲۰۱۹
Comments
Post a Comment