نیا سورج تلاش لائیں گے
یہ جو ہر طرف ہے دھواں دھواں
یہ کسی کا دل ہے جلا ہوا
ہے وہ کون جو ہے چھپا ہوا
ہے کس بات سے وہ ڈرا ہوا
یہ اندھیری شب،یہ کھلا آسماں
ان تاریکیوں میں نہیں کُچھ نیا
ہاں مگر وہ جو اک تھا ستم آشنا
سنا، اب نہیں یہاں وہ رہا
ہوا کیا، پتا چلا کُچھ ماجرا
ہے حاکم وقت کو بڑا رنج ہوا
کہ کُچھ لوگ ہیں جو اڑے ہوئے
نہیں ظلم کے آگے وہ جھک رہے
ہیں دٹے ہوئے وہ اڑے ہوئے
کہ فنا بھی یہ ہے بقا بھی یہ
ہر ستم ہے اُن پے مجاز اب
کہ ہے خطرہ اُن کی آواز اب
جو نہ کی گئی یہ آگ سرد
نہ بچے گا جنگل ظلم اب
زباں کاٹ دو کہ سنا اب بہت
وہ قلم جو لکھتا ہے توڑ دو
وہ کتاب جو دے شعور نو
اُسے دور تم کہیں پھینک دو
یہ سیاہ حروف کی روشنی
اس روشنی کو غلام کر
کہ اُجالا دیتی ہے نسل کو
وہی نسل آ کے کھڑی ہے اب
ہے ڈتی ہوئی ہر محاذ پر
نہ جھکے ہی ہے نہ مڑے ہی ہے
ہر ستم ہم نے روا کیا
جو بھی بن سکا وہ سب کردیا
کئے دست و پا بھی جدا جدا
اور خوں کی ارزاں ریزیاں
نہ مکتبوں میں امان دی
نہ ہی مسجدوں میں وہ اماں ملی
اُسے گھمنڈ ہے اپنے رسوخ کا
ہمیں اتحاد پہ ناز ہے
وہ ہے در پے نفرتوں کی خرید کا
ہم سبیلِ عشق لگائے ہیں
اسی حب سے اسی اتحاد سے
نئی صبح اب ہم لائیں گے
انہیں تاریکیوں کی کوکھ سے
نیا سورج تلاش لائیں گے
احمد سعید قادری
۲۹ دسمبر ۲۰۱۹
Comments
Post a Comment