اُداس شام

اُداس شام

پھر کچھ اس دل کو بیقراری ہے

سینہ جویائے زخمِ کاری ہے

آج صبح سے ہی من کچھ بھاری بھاری تھا، سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اچانک اس دل کو کیوں بیقراری لگ گئی۔کمبخت جب سوچو کہ اب سکون میسر آگیا ہے تبھی یکا یک اس دل کو ایک نیا روگ لگ جاتا ہے۔خیر زندگی ہے، کبھی دکھ تو کبھی سکھ چلتا ہی رہتا ہے۔ بس کبھی کبھی جب درد حد سے ماورائ ہو جاتا ہے پھر ہر منظر دھواں سا لگتا ہے اور ہر کَل بیکلی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

شام کا وقت ہے، رہائشی علاقہ سے کچھ دور واقع پہاڑ پر چڑھ رہا ہوں - جہاں سے تقریباً پورا شہر نظر آتا ہے، لوگ عموماً اس جگہ صبح و شام چہل قدمی کے لئے آتے ہیں،صبح اُگتا ہوا سورج اُن کو مرحبا کہتا ہے تو شام کو ڈوبتا ہوا آفتاب رخصتی کا سلام پیش کرتا ہے- ہر طرف ہریالی ہے، تازہ ٹھنڈی ہوا کی تاثیر روح تک پہونچ رہی ہے، پرندے اپنے جھنڈ کے ساتھ خوش کپپیوں میں مگن اپنے گھونسلوں کی طرف رواں دواں ہیں، اُن کے کُھلتے بند ہوتے پروں کو دیکھ ایسا محسوس ہو رہا ہے گویا وہ مجھے ساتھ چلنے کو کہہ رہے ہوں، اُن کی چہچہاہت، کبھی ایک پرندے کا دوسرے پرندے سے آگے نکل کر پیچھے موڑ کر اپنے ساتھی پرندے کو آگے آنے کا اشارہ کرنا، بادلوں سے عاری نیلا آسمان، ہوا سے ہلتے درختوں کے پتّے اور پتّوں سے پیدا ہونے والی طلسماتی آوازیں، کچھ دور ہوا کے دوش پر سوار، گردش کرتے سوکھے پتّوں کی چرمراہٹ، ڈوبتا ہوا سورج اور اُفق پر بکھری لالی منظر کی دلفریبی و دلنشینی میں مزید اضافہ کررہی ہے لیکن نہ جانے کیوں شام کے یہ تمام فرحت بخش مناظر مجھے کسی اور ہی دنیا میں دھکیل رہے ہیں، نا جانے کیوں شفق پر بکھری لالی دیکھ مجھے کسی کے رخسار پر بکھری حیا کی لالی یاد آنے لگی ہے، یہ پرندوں کے کُھلتے بند ہوتے پروں نے كسی کی نرگسی آنکھوں پر شامیانے کی صورت تنی کُھلتی جھپکتی پلکیں یاد دلا دیں، اِن ہوا سے ہلتی شاخوں میں مجھے کسی پری وش کی بِکھری زُلفِ دُتا دکھائی دے رہی ہے،اپنے گھونسلوں کے طرف پرواز کرتے پرندوں کی نغمہ سنجی میں مجھے کسی مہ جبیں کی میٹھی گفتار کی دھن سنائی دے رہی ہے، اس صاف نیلگوں آسمان کو دیکھتا ہوں تو کسی مہ لقا کی چمکتی پیشانی کا عکس معلوم ہوتا ہے، یہ ہوا کے دوش پر سوار حرکت کرتے پتّوں کی چرمراہٹ میں بھی مجھ بسملِ راہِ الفت کو ‌ناخدائے محبت سے ایک نگاہ التفات کی فریاد سنائی دے رہی ہے، پہاڑ کے اطراف میں پھیلا یہ سبزہ دیکھ ایسا لگتا جیسے یار کے دیدار نے اس کو ایک نئی زندگی بخش دی ہو۔لیکن یہ کیا؟ یہ ڈوبتا ہوا سورج تو آنکھوں سے  اوجھل ہوتا جا رہا ہے اور اُس کے ساتھ ہی شام کی ساری رنگینی، پھول، درختوں اور پرندوں کا سارا شوخ و چنچل پن یکایک دھواں دھواں اور سارا حسن گہری اداسی میں میں ڈوب رہا ہے گو کہ شام بھی کسی بے وفا کی یاد میں سوگوار ہونا چاہتی ہے۔ چلیں! پھر ہم بھی اس اُداس شام کے ساتھ اپنی اداسی ساجھا کرتے ہیں، کیونکہ:

پھر اُسی بے وفا پہ مرتے ہیں

پھر وہی زندگی ہماری ہے

Comments

Popular posts from this blog

اہلِ دل کی بزم اور ایک دور کھڑا مسافر

عتبات تضيء أكثر من الدروب

عربی محاورات مع ترجمہ و تعبیرات - ایک مطالعہ